الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابٌ فِي الْإِيْمَانِ بِالنَّبِيِّ ﷺ وَفَضْلَ مَنْ آمَنَ بِهِ وَلَمْ يَرَهُ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 133
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس امت کا جو یہودی اور عیسائی میرے بارے میں سنے گا اور پھر اس چیز پر ایمان نہیں لائے گا، جس کے ساتھ مجھے مبعوث کیا گیا ہے، تو وہ جہنمیوں میں سے ہو گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 133]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8188»
وضاحت: فوائد: … چونکہ یہودی اور عیسائی اہل کتاب تھے اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت رکھتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہ لانا، یہ بڑا جرم ہے، اس وجہ سے حدیث ِ مبارکہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے، وگرنہ جو غیر مسلم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا، وہ آخرت میں ناکام و نامراد ہو گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 153
Al-Fath al-Rabbani Hadith 133 in Urdu