الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ فِي مَجَالِسِ الْعِلْمِ وَآدَابِهَا وَآدَابِ الْمُتَعَلِّمِ
علم کی مجالس اور ان کے آداب اورمتعلم کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 259
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَوَجَدَ فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ وَجَلَسَ الْآخَرُ مِنْ وَرَائِهِمْ وَانْطَلَقَ الثَّالِثُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَبَرِ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ؟) ) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: ( (أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ فَآوَى فَآوَاهُ اللَّهُ، وَالَّذِي جَلَسَ مِنْ وَرَائِكُمْ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الَّذِي انْطَلَقَ رَجُلٌ أَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ) )
سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے تین افراد کا گزر ہوا، ان میں سے ایک فرد متوجہ ہوا اور مجلس کے اندر خالی جگہ دیکھ کر وہاں بیٹھ گیا، دوسرا فرد لوگوں کے پیچھے ہی بیٹھ گیا اور تیسرا چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ان تین افراد کی بات بیان نہ کر دوں؟“ صحابہ کرام نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص آگے بڑھ کر بیٹھ گیا، اس نے جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اس کو جگہ دے دی، جو آدمی تمہارے پیچھے بیٹھ گیا، پس اس نے شرم محسوس کی اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے شرما گیا اور جو فرد چلا گیا، پس اس نے اعراض کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 66، 474، ومسلم: 2176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22252»
وضاحت: فوائد: … یہ کل تین افراد تھے، تینوں کا انداز مختلف تھا، آگے سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا رویہ بھی مختلف رہا۔ایک نے رغبت سے کام لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف مزید قریب ہونے کے لیے محفل میں پڑی ہوئی خالی جگہ کی طرف بڑھا، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کی زیادہ قدر کی گئی اور اُس نے اِس کو اپنی رحمت اور رضامندی میں جگہ دی، اس طرح آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں جائیں۔ دوسرے آدمی نے پہلے تو جانے کا ارادہ کیا، لیکن پھر شرما گیا اور آ کر بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ یہی معاملہ کیا، یعنی اس سے شرما کر اس کے ساتھ رحم والا معاملہ کر دیا، مستدرک حاکم کے الفاظ یہ ہیں: وَمَضَی الثَّانِیْ قَلِیْـلًا ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ … اور دوسرا جانے کے لیے تھوڑا سا چلا، لیکن پھر آ کر بیٹھ گیا۔ تیسرا آدمی اس مجلس کا پاس و لحاظ کیے بغیر چل دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے اعراض کیا اور اس پر ناراض ہو گیا۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے، جو شرعی علم پر مشتمل مجلسوں اور دروس سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جب مسجد میں نماز کے بعد درسِ قرآن و حدیث شروع ہوتا ہے تو لوگ یوں کھڑے ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جیسے کوئی عذاب آنے لگا ہے، جمعہ کے خطبوں اور نمازوں کا تو معاملہ ہی اور ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 66
حدیث نمبر: 260
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ حُذَيْفَةَ (بْنِ الْيَمَانِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسْطِ الْحَلْقَةِ، قَالَ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے مجلس کے درمیان میں بیٹھنے والے شخص کے بارے میں کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زبان کے مطابق اس شخص پر لعنت کی گئی ہے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 260]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو مجلز لاحق بن حميد لم يدرك حذيفة۔ أخرجه ابوداود:4826، والترمذي: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23652»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 261
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ لُقْمَانَ كَانَ يَقُولُ: يَا بُنَيَّ! لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ أَوْ تُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ وَتُرَائِيَ بِهِ فِي الْمَجَالِسِ
عبداللہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان علیہ السلام نے کہا تھا: ”اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفوں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 261]
تخریج الحدیث: «ھذا بلاغ عن لقمان، فھو منقطع، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1651»
الحكم على الحديث: ھذا بلاغ عن لقمان
حدیث نمبر: 262
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: ( (مَثَلُ الَّذِي يَجْلِسُ فَيَسْمَعُ الْحِكْمَةَ، ثُمَّ لَا يُحَدِّثُ عَنْ صَاحِبِهِ إِلَّا بِشَرٍّ مَا سَمِعَ، كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا فَقَالَ: يَا رَاعِي! اجْزُرْ لِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ، قَالَ: اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا، فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حکمت کی بات سن کر اس کو اس کے کہنے والے کے حوالے سے بیان نہیں کرتا، مگر وہ جو صرف اس نے شر والی بات سنی ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے، جس نے ایک چرواہے سے آیا اور کہا: اے چرواہے! ایک بکری تو دے دو، جو ذبح کے قابل ہو، اس نے کہا: جا اور سب سے بہترین بکری کا کان پکڑ لے (اور اس کو لے جا)، لیکن وہ گیا اور بکریوں کے رکھوالے کتے کا کان پکڑ کر لے گیا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 262]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ولجھالة اوس بن خالد۔ أخرجه ابن ماجه: 4172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8624»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان ولجھالة اوس بن خالد۔ أخرجه ابن ماجه: 4172