الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنْ الطَّهَارَةِ بِفَضْلِ الطَّهُورِ
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
حدیث نمبر: 379
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ أَوْ أَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ وَلْيَغْتَرِفُوا جَمِيعًا
حمید بن عبدالرحمن حمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ”ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یا بیوی، خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند، بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے، ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھے نہا لیں)۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 81، والنسائي: 1/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17137»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 81
حدیث نمبر: 380
عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍ (الْغِفَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ سُؤرِ الْمَرْأَةِ (مسند أحمد: 18018)
سیدنا حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کو اس سے منع کیا کہ وہ عورت کے جوٹھے پانی سے وضو کرے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي حاجب، وھو ثقة، وقد اعل بالوقف۔أخرجه ابوداود: 82، وابن ماجه: 373، والترمذي: 64، والنسائي: 1/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18018»
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين غير ابي حاجب
حدیث نمبر: 381
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِهَا، لَا يَدْرِي بِفَضْلِ وَضُوئِهَا أَوْ فَضْلِ سُوءِهَا
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا، اب وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کے وضو سے بچا ہوا پانی مراد تھا، یا اس کا جوٹھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020
حدیث نمبر: 382
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ
(تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کو اس سے منع فرمایا کہ وہ عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20933»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20933
حدیث نمبر: 383
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ أَبِي حَاجِبٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي غِفَّارٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ
بنو غفار کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد کو عورت کی طہارت سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020»
وضاحت: فوائد: … لیکن ان احادیث سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ وہ پانی نجس ہو جاتا ہے یا مطہِّر نہیں رہتا، کیونکہ اگلے باب کی احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود ام المؤمنین کے جنابت والے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کیا ہے، اگر محض غسل کرنے سے پانی کی طہوریت میں فرق آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود تو غسل یا وضو نہ کرتے۔ دراصل ان احادیث ِ مبارکہ میں انسان کی طبع کا لحاظ رکھتے ہوئے ایسے پانی سے تنزیہی طور پر منع کیا گیا ہے، وگرنہ اگر کوئی استعمال کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ ان تین چار ابواب میں مذکورہ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگر اس نہی کی بنیاد ی وجہ پانی کے استعمال شدہ ہونے کو قرار دیا جائے تو پہلی حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ تو نہ فرماتے کہ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلّو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ کیونکہ ایک برتن میں ایک وقت میں وضو اور غسل کرنے والے ایک دوسرے کا بچا ہوا پانی استعمال کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18020