🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِي تَطْهِيرِ نَجَاسَةِ دَمِ الْحَيْضِ
حیض کے خون کو پاک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 405
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْمَرْأَةُ يُصِيبُهَا مِنْ دَمِ حَيْضِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِتَحُطِّهِ ثُمَّ لِتَقْرِصْهُ بِمَاءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِيهِ) )
سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک خاتون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! عورت کو حیض کا خون لگ جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ وہ اس کو کھرچے، پھر پانی کے ساتھ ملے اور پھر اس میں نماز پڑھ لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 405]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 307، ومسلم: 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27459»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 406
عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ فَقَالَ: ( (اغْسِلِيهِ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَحُكِّيهِ بِضِلَعٍ) )
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ دھو اور کسی ہڈی کے ساتھ کھرچ ڈال۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 406]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 363، والنسائي: 1/ 154، وابن ماجه: 628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27542»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 363
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 407
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ، قَالَ: ( (فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ) ) قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ؟ قَالَ: ( (يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ) )
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8752»
وضاحت: فوائد: … اس امر پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ حیض کا خون پلید ہے، مذکورہ بالا احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ اس خون کی مکمل صفائی ہونی چاہیے۔ اس کا (باقی رہ جانے والا) نشان تجھے نقصان نہیں دے گا۔ اس چیز کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دینا ضروری ہے، جن لوگوں کو بغلوں میں بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کپڑے کے اس حصے کا رنگ زرد ہو جاتا ہے اور دھونے کے باوجود نہیں اترتا ہے، جبکہ اس زردی کے باقی رہنے کا یہ معنی نہیں ہوتا ہے کہ ابھی تک پسینہ باقی ہے، دراصل یہ پسینہ کی وجہ سے پڑ جانے والا رنگ ہوتا ہے، یہی معاملہ حیض کے خون اور دوسری اس قسم کی چیزوں کا ہے۔ مقصودِ شریعت یہ ہے کہ حیض کے خون کو صاف کیا جائے اور اگر اس کی وجہ سے کپڑے کی رنگت ہی تبدیل ہو گئی ہے، تو اس کے باقی رہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: حديث حسن ۔ أخرجه ابوداود: 365
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں