الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابٌ فِي تَطْهِيرِ ذَيْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا مَرَّتْ بِنَجَاسَةٍ
نجاست سے گزرنے والی خاتون کے کپڑے کے نچلے حصے کو پاک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 408
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ: كُنْتُ أَجُرُّ ذَيْلِي (وَفِي رِوَايَةٍ: كُنْتُ امْرَأَةً لِي ذَيْلٌ طَوِيلٌ) وَكُنْتُ آتِي الْمَسْجِدَ فَأَمُرُّ بِالْمَكَانِ الْقَذِرِ وَالْمَكَانِ الطَّيِّبِ، فَدَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ) )
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد رحمہا اللہ کہتی ہیں: ”میں اپنے کپڑے کو گھسیٹتی تھی،“ ایک روایت میں ہے: ”میں ایسی عورت تھی، جس کا کپڑے کا نچلا حصہ لمبا تھا اور جب میں مسجد کی طرف آتی تھی تو ناپاک اور پاک دونوں جگہوں سے گزر کر آتی تھی،“ پس میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے اس کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعد والی (پاک) جگہ اس کو پاک کر دے گی۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 408]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 383، وابن ماجه: 531، والترمذي: 143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27021»
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 383
حدیث نمبر: 409
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيْسَى عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: وَكَانَ رَجُلَ صِدْقٍ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لَنَا طَرِيقًا إِلَى الْمَسْجِدِ مُنْتِنًا، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِذَا مُطِرْنَا؟ قَالَ: ( (أَلَيْسَ بَعْدَهَا طَرِيقٌ هِيَ أَطْيَبُ مِنْهَا؟) ) قَالَتْ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: ( (فَهَذِهِ بِهَذِهِ) ) وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ( (إِنَّ هَذِهِ تَذْهَبُ بِذَلِكَ) )
موسیٰ بن عبداللہ رحمہ اللہ، جو کہ سچائی والا آدمی تھا، بنو عبد اشہل کی ایک صحابیہ خاتون رضی اللہ عنہا سے روایت کرتا ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مسجد کی طرف آنے والا ہمارا راستہ بدبودار ہے، جب بارش ہو جائے تو ہم کیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے بعد کوئی پاک راستہ نہیں ہے؟“ اس نے کہا: ”جی کیوں نہیں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر یہ راستہ اس کے بدلے ہے۔“ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پاک راستہ اس (ناپاک راستے کے اثر) کو ختم کر دے گا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 409]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 384، وابن ماجه: 533، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27452 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27999»
وضاحت: فوائد: … خواتین کے کپڑے کا جو حصہ زمین پر گھسٹ رہا ہوتا ہے، اس کی پاکی کا حکم جوتے والا ہے، جس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔ ذہن نشین کر لیں کہ شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ عورتوں کے پاؤں کے نیچے ایک ہاتھ کپڑا لٹکنا چاہیے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 384