🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. بَابٌ فِي طَهَارَةِ الْمُسْلِمِ حَيًّا وَمَيِّتًا
مسلمان زندہ ہو یا مردہ، اس کے طاہر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ: ( (أَيْنَ كُنْتَ؟) ) فَقُلْتُ: لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ فَانْطَلَقْتُ فَاغْتَسَلْتُ، فَقَالَ: ( (سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، جبکہ میں جنابت کی حالت میں تھا، بہرحال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور میں وہاں سے کھسک گیا اور گھر پہنچ کر غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کہاں تھے؟“ میں نے کہا: ”جی آپ مجھے ملے تھے جبکہ میں جنبی تھا اور میں نے اس جنابت والی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو ناپسند کیا، اس لیے میں نے جا کر غسل کیا،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 473]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 285، ومسلم: 371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8956»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 285
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) قَالَ: لَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَانْخَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ (فَذَكَرَ مِثْلَهُ فِيهِ) فَقَالَ: ( (إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ) )
(دوسری سند) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں تھے، پس میں کھسک گیا اور جا کر غسل کر کے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ پھر اسی طرح کی روایت ذکر کی، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10087»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10087
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقِيَهُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَأَهْوَى إِلَيْهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي جُنُبٌ، قَالَ: ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ) )
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے کسی راستے میں اس کو ملے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جھکے تو اس نے کہا: ”میں تو جنابت کی حالت میں ہوں،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مؤمن ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23653»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 372
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَقِيَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَّانِ فَحَادَ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: ( (مَا لَكَ؟) ) قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ جُنُبًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ) )
(دوسری سند) ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے، لیکن وہ وہاں سے ایک طرف ہو کر چلے اور غسل کر کے دوبارہ آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم کو کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں جنبی تھا،“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23810»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث عام ہیں، جو مسلمان کی حیات اور موت دونوں حالتوں کو شامل ہیں، البتہ درج ذیل موقوف روایت میں خصوصیت کے ساتھ موت کی حالت کو بیان کیا گیا ہے:
عبد اللہ بن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلَیْکُمْ فِیْ غُسْلِ مَیِّتِکُمْ غُسْلٌ اِذَا غَسَلْتُمُوْہُ، اِنَّ مَیِّتَکُمْ لَمُؤْمِنٌ طَاھِرٌ، وَلَیْسَ بِنَجَسٍ، فَحَسْبُکُمْ اَنْ تَغْسِلُوْا اَیْدِیَکُمْ)) … جب تم میت کو غسل دے لو تو تم پر کوئی غسل نہیں ہے، بیشک تمہاری میت مومن اور طاہر ہے اور نجس نہیں ہے، پس تمہیں ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے۔ (بیہقی: ۱/ ۳۹۸، حاکم: ۱/ ۳۸۶، احکام الجنائز: ص ۵۳، ۵۴)
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے سر کے بال منڈوا کر صحابہ میں تقسیم کر دینا بھی اس چیز کی دلیل بن سکتی ہے۔ جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ مردہ انسان پاک ہے، البتہ احناف نے میت کو نجس قرار دیا ہے، لیکن یہ رائے مرجوح ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23810
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں