🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. بَابٌ فِي طَهَارَةِ مَا لَا نَفْسَ لَهُ سَائِلَةٌ حَيًّا أَوْ مَيِّتًا
جن جانداروں میں بہنے والا خون نہ ہو،ان کی طہارت کا بیان، وہ زندہ ہوںیا مردہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يَتَقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مکھی کسی کے برتن میں گر جائے تو چونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفا اور وہ اس پر کے ذریعے بچتی ہے، جس میں بیماری ہوتی ہے، اس لیے آدمی ساری مکھی کو ڈبو دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3320، 5782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7141»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3320
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ لْيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً وَفِي الْآخَرِ دَاءً) )
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو مکمل طور پر ڈبو کر پھینک دے، کیونکہ اس کے ایک پر میں شفا ہے اور دوسرے میں بیماری ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9157»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9157
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے کھانے میں مکھی گر جائے تو وہ اس کو اس میں ڈبو دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 7/ 178، وابن ماجه: 3504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11189 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11207»
وضاحت: فوائد: … امام شوکانی نے کہا: ان احادیث سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ مائے قلیل ایسی چیز کے مر جانے سے نجس نہیں ہوتا، جس کا بہنے والا خون نہ ہو، کیونکہ ان احادیث میں موت و حیات کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره ۔ أخرجه النسائي: 7/ 178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَأَمَّا الدَّمَانِ فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ) )
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کیے گئے ہیں، پس وہ دو مردار مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون جگر اور تلی ہیں۔ (مسند احمد: 5723) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 3218، 3314، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5723 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی، ٹڈی کا مردار اور جگر اور تلی کے خون حلال ہیں۔

الحكم على الحديث: حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 3218
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں