الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي نُهِيَ عَنِ الْبَوْلِ فِيهَا
ان مقامات کا بیان، جہاں پیشاب کرنے سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُعَاذٌ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ، وَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، فَإِنَّ الْفَأْرَةَ تَأْخُذُ الْفَتِيلَةَ فَتَحْرِقُ أَهْلَ الْبَيْتِ، وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الشَّرَابَ وَغَلِّقُوا الْأَبْوَابَ بِاللَّيْلِ) ) قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا يَكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ: إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ
سیدنا عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی ہرگز بل میں پیشاب نہ کرے، اور جب تم نے سونا ہو تو چراغ کو بجھا دیا کرو، کیونکہ چوہیا اس کی بتی پکڑ کر گھر والوں کو جلا سکتی ہے، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور رات کو دروازے بند کر دیا کرو۔“ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے کہا: ”بل میں پیشاب کرنے کو کیوں ناپسند کیا جاتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کے مسکن ہیں۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، وصحح ھذا الحديث ابن خزيمة وابن السكن۔ أخرجه ابوداود: 29، والنسائي: 1/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21056»
وضاحت: فوائد: … بِل میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی ایک وجہ قتادہ نے بیان کی ہے، لیکن درج ذیل دو وجوہات زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں: اسی بِل سے سانپ، بچھو یا کوئی اور جانور نکل کر بندے کو نقصان نہ پہنچا دے۔ اس بِل میں موجود جانور کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 485
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوِسْوَاسِ مِنْهُ) )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ”آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے،“ کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: فان عامة الوسواس منه فھو موقوف، وھذا اسناد رجاله ثقات الا ان الحسن البصري لم يصرح بسماعه من عبد الله بن المغفل۔ أخرجه ابوداود: 27، وابن ماجه: 304، والترمذي: 21، والنسائي: 1/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20844»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 486
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوِسْوَاسِ مِنْهُ
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ”آدمی اپنے غسل خانے میں پیشاب کرے،“ کیونکہ عام وسوسے اسی وجہ سے ہوتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20837»
وضاحت: فوائد: … بہرحال غسل خانے میں پیشاب کرنا منع ہے، اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، مثلا: اس جگہ کا ناپاک ہو جانا، وہاں سے بد بو آنا، اس کی وجہ سے وسوسے پیدا ہونا، فطرت کا اس چیز کو سخت ناپسند کرنا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 487
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ أَرْبَعَ سِنِينَ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْتَشِطَ أَحَدُنَا كُلَّ يَوْمٍ وَأَنْ يَبُولَ فِي مُغْتَسَلِهِ وَأَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ وَأَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ، وَلْيَغْتَرِفُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: وَلْيَغْتَرِفَا) جَمِيعًا
حُمید بن عبدالرحمن حِمیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ایسے صحابی کو ملا، جن کو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرح چار برسوں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف ملا تھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا کہ ”ہم ہر روز کنگھی کریں یا غسل خانے میں پیشاب کریں یا بیوی خاوند کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا خاوند بیوی کے بچے ہوئے پانی سے نہائے،“ ان کو چاہیے کہ وہ اکٹھے چلو بھر لیں (یعنی ایک وقت میں اکٹھا نہا لیں)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 81، والنسائي: 1/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17012 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17137»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کا ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے نہانے کا مسئلہ پہلے گزر چکا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح