الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ عِنْدَ الْوُضُوءِ
وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 565
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَأَمَرْتُهُمْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ بِوُضُوءٍ وَمَعَ كُلِّ وُضُوءٍ سِوَاكٌ) وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نماز عشا کو ایک تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“ ایک روایت میں ہے: ”میں ان کو ہر نماز کے ساتھ وضو کا اور ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دے دیتا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 887، ومسلم: 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7406»
وضاحت: فوائد: … وضو کے ساتھ مسواک کرنا تو نماز کی خاطر ہے، جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے علاوہ بھی مسواک کرتے تھے، جیسا کہ اگلے ابواب میں وضاحت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 887
حدیث نمبر: 566
وَعَنْهُ أَيْضًا بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ وَبَعْدَ مَا أَسْتَيْقِظُ وَقَبْلَ مَا آكُلُ وَبَعْدَ مَا آكُلُ حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد سونے سے پہلے، جاگنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا تھا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وانظر لمرفوعه الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9183»
الحكم على الحديث: حديث صحيح