الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي كَيْفِيَّةِ التَّسَوُّكِ بِالْعُودِ وَتَسَوُّكِ الْمُتَوَضِّئِ بِإِصْبَعِهِ عِنْدَ الْمَضْمَضَةِ
لکڑی سے مسواک کرنے کی کیفیت اور کلی کرتے وقت وضو کرنے والے آدمی کا اپنی انگلی سے مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 567
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَاكُ وَهُوَ وَاضِعٌ طَرْفَ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ يَسْتَنُّ إِلَى فَوْقَ، فَوَصَفَ حَمَّادٌ كَأَنَّهُ يَرْفَعُ سِوَاكَهُ، قَالَ حَمَّادٌ: وَوَصَفَهُ لَنَا غَيْلَانُ قَالَ: كَانَ يَسْتَنُّ طُولًا
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر داخل ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ زبان پر تھا اور اوپر کو مسواک کر رہے تھے۔ حماد رحمہ اللہ نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مسواک کو اٹھا رہے تھے، پھر حماد رحمہ اللہ نے کہا کہ غیلان رحمہ اللہ نے ہمیں یہ کیفیت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم طول میں مسواک کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 244، ومسلم: 254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19737 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19975»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زبان پر لمبائی میں مسواک کی جائے گی، نیز مسواک صرف دانتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 244
حدیث نمبر: 568
عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَابِ الرَّحْبَةِ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَرِنِي وَضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الزَّوَالِ، فَدَعَا قَنْبَرًا فَقَالَ: ائْتِنِي بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا فَأَدْخَلَ بَعْضَ أَصَابِعِهِ فِي فِيهِ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا [الْحَدِيثُ سَيَأْتِي بِطُولِهِ فِي بَابِ صِفَةِ الْوُضُوءِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى]
ابو مطر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھاؤ،“ یہ زوال کا وقت تھا، پس انہوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: ”پانی کا برتن میرے پاس لاؤ،“ پس انہوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث باب صفة الوضوء میں آئے گی۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري۔ أخرجه عبد بن حميد: 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1356 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1356»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف المختار بن نافع ولجھالة ابي مطر البصري ۔ أخرجه عبد بن حميد: 95