الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
54. بَابٌ فِيمَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ لِلصَّائِمِ وَالْجَائِعِ
روزے دار اور بھوکے کے مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 573
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان گنت اور بے شمار دفعہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 573]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2364، والترمذي: 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15678، 15688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15766»
وضاحت: فوائد: … امام شافعی نے روزے دار کے لیے دن کے شروع میں اور آخر میں مسواک کرنے کو جائز قرار دیا ہے، جبکہ امام احمد نے دن کے آخری حصے میں مسواک کرنے کو ناپسند کیا ہے، جبکہ ناپسند کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا حَسَنٌ ثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ قَابُوسٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِخْلَافًا فَقَالَ لَهُ: ( (أَلَا تَسْتَاكُ؟) ) فَقَالَ: إِنِّي لَا أَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، دونوں کی ایک قسم کی ضرورت تھی، جب ان میں سے ایک آدمی نے گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ سے بدبو محسوس کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم مسواک نہیں کرتے؟“ اس نے کہا: ”جی میں ضرور کرتا ہوں، اصل بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا، پس اس نے اس کو جگہ دی اور اس کی ضرورت پوری کی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 574]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليِّن يكتب حديثه ولا يحتج به۔ أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»
وضاحت: فوائد: … مسواک کے عام دلائل روزے دار کو بھی شامل ہیں، جبکہ خاص دلائل بھی موجود ہیں، نیز کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے، جس میں روزے دار کو مسواک کرنے سے منع کیا گیا ہو، علاوہ ازیں اگر روزے دار کے لیے وضو میں کلی کرنا درست ہے، جس میں سارے منہ میں پانی کو حرکت دے کر گھمایا جاتا ہے تو مسواک بھی درست ہونا چاہیے۔ ذہن نشین رہے کے روزے دار کہ منہ کی بو، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی پاکیزہ ہے، کا تعلق روزے دار کے معدے سے ہے، نہ کہ منہ سے، اس لیے مسواک سے وہ بو متأثر نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث: ضعیف