الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. بَابُ السِّوَاكِ عِنْدَ الِاسْتِيقَاظِ مِنَ النَّوْمِ وَعِنْدَ التَّهَجُّدِ وَدُخُولِ الْمَنْزِلِ
نیند سے بیدار ہوتے وقت، تہجد کے وقت اور گھر میں داخل ہوتے وقت مسواک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 569
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سوتے تھے، مسواک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوتے تو مسواک سے شروع کرتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 569]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابو يعلي: 5749، والطبراني في الكبير: 13598، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5979»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 570
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ لَيْلًا وَلَا نَهَارًا فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا تَسَوَّكَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات اور دن کو جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 570]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25412»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 571
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: إِذَا قَامَ مِنَ التَّهَجُّدِ) يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے، ایک روایت میں ہے: جب تہجد کے لیے بیدار ہوتے تو اپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 571]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 245، ومسلم: 255، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23631»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 572
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطْرَ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا) ) قَالَ: وَسَأَلْتُ عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: «اللّٰہُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا» … ”اے اللہ! نفع مند بارش نازل فرما۔“ شریح رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تو کسی چیز سے ابتدا کرتے تھے، انہوں نے کہا: ”مسواک سے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 572]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 164، وأخرجه مسلم: 253 دون القسم الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24645»
وضاحت: فوائد: … نیند، گفتگو اور کچھ دیر گزر جانے سے معدہ کے بخارات کی وجہ سے منہ میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے اوقات میں مسواک کی جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح