الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. الْبَابُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَإِسْبَاغِهِ
وضو کی فضیلت اور اس کو پوری طرح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 585
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ نَارٍ) ) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ) )
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: ’کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟‘ لوگوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 585]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 1052، 2555، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17597»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 586
عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرَ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَ: ( (أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟) ) فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: ( (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهٍ، فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ، وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ) )
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے پانی منگوایا اور وضو کیا، کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار چہرہ دھویا، تین دفعہ بازو دھوئے اور پھر اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے کو مسح کیا اور پھر ہنس پڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس نے مجھے ہنسایا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! آپ کیوں ہنسے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ کے قریب تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور پھر مسکرا پڑے اور فرمایا: ’کیا تم لوگ مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرو گے، جس کی وجہ سے میں مسکرایا ہوں؟‘ لوگوں نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’بیشک جب بندہ وضو کا پانی منگوا کر چہرہ دھوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے سے ہر اس گناہ کو مٹا دیتا ہے، جس کا چہرے نے ارتکاب کیا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے بازو دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے، جب وہ مسح کرتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اسی طرح ہوتا ہے۔‘“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 586]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 8 مختصرا والبزار: 420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 415»
وضاحت: فوائد: … وَظَہْرِ قَدَمَیْہِ کے لحاظ سے ترجمہ کہا گیا ہے۔
ایک نسخے میں وَطَہَّرَ قَدَمَیْہِ ہے جس کا معنی ہے اور انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ یہ نسخہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اس نسخہ کی تائید کر رہا ہے۔ پہلے نسخہ کے لحاظ سے یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے پانوں کے ظاہری حصہ کا مسح اس لیے کیا کہ انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
ایک نسخے میں وَطَہَّرَ قَدَمَیْہِ ہے جس کا معنی ہے اور انہوں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ یہ نسخہ زیادہ اچھا لگ رہا ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اس نسخہ کی تائید کر رہا ہے۔ پہلے نسخہ کے لحاظ سے یہ کہنا پڑے گا کہ انہوں نے پانوں کے ظاہری حصہ کا مسح اس لیے کیا کہ انہوں نے موزے پہنے ہوئے تھے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 587
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أَوِ الْمُؤْمِنُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظَرَ إِلَيْهَا بِعَيْنِهِ مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ أَوْ نَحْوَ هَذَا، فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ يَدِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ بَطَشَ بِهَا مَعَ الْمَاءِ أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرَةِ الْمَاءِ حَتَّى يَخْرُجَ نَقِيًّا مِنَ الذُّنُوبِ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان یا مؤمن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے کا ہر وہ گناہ زائل ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھ سے ہر وہ گناہ ساقط ہو جاتا ہے، جس کی طرف اس نے ہاتھ پھیلایا ہوتا ہے، (باقی اعضا کا بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو جاتا ہے۔“ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8007»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے باب میں انتہائی واضح ہیں، ان میں کسی قسم کا ابہام نہیں ہے، ہمیں چاہیے کہ ان فضیلتوں کو حاصل کرنے کے لیے وضو کو صرف نماز کے ساتھ خاص نہ کریں، بلکہ ان کے علاوہ جب بھی موقع ملا، یہ سعادت حاصل کی جائے، خصوصا سوتے وقت، وضو کا ایک خارجی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کے بعد مسلمان اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح