🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَالصَّلَاةِ عَقِبَهُ
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 605
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السَّلَاسِلِ فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ فَرَابَطُوا ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي الْمَسَاجِدِ الْأَرْبَعَةِ) غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي! أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ؟ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ) ) أَكَذَاكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ
عاصم بن سفیان ثقفی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم لوگ غزوہ سلاسل کے لیے گئے، لیکن یہ غزوہ رہ گیا، پس انہوں نے سرحد پر پہرہ دیا اور پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ آئے جبکہ ان کے پاس سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے، عاصم نے کہا: اے ابو ایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا ہے، جبکہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ جو آدمی چار مسجدوں میں نماز پڑھے گا، اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! کیا میں تجھے اس سے آسان عمل نہ بتا دوں؟ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس نے اس طرح وضو کیا، جس طرح اس کو حکم دیا گیا اور اس طرح نماز پڑھی، جیسے اس کو پڑھنے کا حکم دیا گیا، تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘ عقبہ! اسی طرح حدیث ہے نا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 605]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1196، والنسائي: 1/ 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23993»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 606
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَتَمَّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا) )
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لوگو! بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جس نے وضو کیا اور پورا وضو کیا، پھر مکمل طور پر دو رکعت نماز پڑھی، وہ اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے گا، وہ اسے جلدی یا بدیر عطا کر دے گا۔‘ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 606]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المرائي التميمي ضعيف۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 607
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي صَدَقَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو الْفَضْلِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرْضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي! مَا أَعْمَدَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ وَمَا جَاءَ بِكَ، قَالَ: قُلْتُ: لَا، إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: لَبِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا (شَكَّ سَهْلٌ) يُحْسِنُ فِيهِمَا الذِّكْرَ وَالْخَشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غُفِرَ لَهُ) )
یوسف بن عبداللہ بن سلام رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جبکہ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: بھتیجے! کس چیز نے تجھ سے اس شہر کا ارادہ کروایا؟ کون سی چیز لے آئی تجھے؟ میں نے کہا: جی کوئی چیز نہیں ہے، بس آپ اور میرے والد کے درمیان جو تعلق تھا، اس کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ جھوٹ بولنے کا برا وقت ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا، پھر کھڑا ہوا اور دو یا چار رکعت نماز پڑھی اور اس میں اچھے انداز میں ذکر اور خشوع اختیار کیا، پھر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی، اس کو بخش دیا جائے گا۔‘ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔أخرجه الطبراني في الاوسط: 5022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28096»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث وضو کرنے، مساجد کی طرف جانے اور ان میں نماز ادا کرنے، نماز کا انتظار کرنے اور وضو کے بعد نماز ادا کرنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں، اگر یہ احادیث ذہن نشین کر لی جائیں تو نہ صرف عمل میں رغبت بڑھتی ہے، بلکہ عمل کے وقت خاص سرور نصیب ہوتا ہے۔
ابو درداءؓ یہ بت اس وقت کر رہے ہیں جب ان کو موت کے آثار نظر آ رہے تھے اور راوی کے بقول اسی بیماری میں وہ فوت ہو گئے تھے تو وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولنے کا وقت نہیں۔ اس لیے میں ایک سچی حدیث سنانا چاہتا ہوں۔ (عبدللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں