🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. بَابُ حُجَّةِ مَنْ رَأَى عَدَمَ نَقْضِ الْوُضُوءِ بِمَسِّ الذَّكَرِ
شرمگاہ کو چھونے سے وضو کا نہ ٹوٹنا، اس رائے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 787
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ، قَالَ: ( (إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ أَوْ جَسَدِكَ) )
سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ جب کوئی آدمی اپنی شرمگاہ کو چھو لے، تو کیا وہ اس سے وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 787]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 182، والترمذي: 85،والنسائي: 1/ 103، وابن ماجه: 483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16286 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16395»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 182
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 788
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: مَسَسْتُ ذَكَرِي، أَوِ الرَّجُلُ يَمُسُّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ، عَلَيْهِ الْوُضُوءُ؟ قَالَ: ( (لَا، إِنَّمَا هُوَ مِنْكَ) )
۔ (دوسری سند)سیدنا طلقؓ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: میں نے اپنی شرمگاہ کو چھوا ہے یا ایک آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے، کیا وہ دوبارہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ تمہارے وجود کا حصہ ہی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16401»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16401
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 789
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَتَوَضَّأُ أَحَدُنَا إِذَا مَسَّ ذَكَرَهُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: ( (هَلْ هُوَ إِلَّا مِنْكَ، أَوْ بَضْعَةٌ مِنْكَ) )
۔ (تیسری سند) سیدنا طلقؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے تو کیا وہ وضو کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہی ہے، (اس سے وضو کرنے کی کیا ضرورت ہے)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16404»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث سیدنا طلق کے حوالے سے مشہور ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو متاثر نہیں ہوتا۔ مذکورہ بالا تین احادیث کے مضمون میں بظاہر تعارض نظر آ رہا ہے اور وہ اس طرح کہ بعض احادیث میں شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو کے ٹوٹ جانے کا ذکر ہے، جبکہ بعض کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے،ان روایات کی بنیاد پر سلف و خلف میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا شرمگاہ کو چھونا ناقض وضو ہے یا نہیں۔ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹ جاتا ہے، بشرطیکہ چھونے کی صورت یہ ہو کہ ہاتھ اور شرمگاہ میں کوئی پردہ حائل نہ ہو، جیسا کہ سیدنا بسرہ اور سیدنا ابوہریرہؓ کی روایات کے الفاظ سے معلوم ہو رہا ہے۔ لیکن سیدنا طلق کی روایت کا کیا جائے گا؟ محدثین نے جمع و تطبیق کے جتنے طریقے مقرر کیے ہیں، ان سب کی روشنی میں سیدنا بسرہ کی روایت پر عمل کیا جائے گا، مثال کے طور پر:
(۱)سیدنا طلق کی روایت کا تعلق اس صورت سے ہے، جب ہاتھ اور شرمگاہ کے درمیان پردہ حائل ہو، یہی تطبیق مناسب نظر آ رہی ہے، اس طرح سے دونوں روایات پر عمل کرنا ممکن ہو جائے گا۔
(۲)اگر اسانید کو دیکھا تو سیدنا بسرہ کی روایت راجح قرار پاتی ہے۔
(۳)اگر احتیاط کے معاملے کو سامنے رکھا جائے تو سیدہ بسرہؓ کی روایت پر عمل کرنا چاہیے، جس میں شرمگاہ کو چھونے کو ناقضِ وضو قرار دیا گیا ہے۔
(۴) اگر اباحت اور حظر میں تعارض پیدا ہو جائے تو حظر کو مقدم کیا جاتا ہے، سیدہ بسرہؓکی حدیث کا تعلق حظر سے ہے۔
(۵)اگر متعارض امور میں سے ایک کا تعلق براء تِ اصلیہ سے ہو تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس اعتبار سے بھی سیدنا طلق ؓکی حدیث منسوخ اور سیدہ بسرہؓ کی حدیث ناسخ اور قابل عمل قرار پاتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سیدنا بسرہ ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے شرمگاہ کے چھونے کوناقضِ وضو سمجھا جائے گا، واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16404
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں