الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ جَوَازِ مُبَاشَرَةِ الْحَائِضِ فِيمَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمُضَاجَعَتِهَا وَمُؤَاكَلَتِهَا
ازار سے اوپر والے حصے کو استعمال کرنے، ایسی خاتون کے ساتھ لیٹ جانے اور اس کے ساتھ کھانا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 947
عَنِ ابْنِ قُرَيْظَةَ الصَّدَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاجِعُكِ وَأَنْتِ حَائِضٌ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِذَا شَدَدْتُ عَلَيَّ إِزَارِي وَلَمْ يَكُنْ لَنَا إِذْ ذَاكَ إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، فَلَمَّا رَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِرَاشًا آخَرَ اعْتَزَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابن قریظہ صدفی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا: جب آپ حائضہ ہوتی تھیں تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے ساتھ لیٹ جایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب میں ازار کو اپنے اوپر کس لیتی تھی اور اس وقت سرے سے ہمارا بچھونا ہی ایک تھا، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک اور بچھونا دے دیاتھا تو میں اس حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے الگ ہو جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 947]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن قريظه الصدفي، وقد اختلف فيه علي يزيد بن ابي حبيب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24606 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25113»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن قريظه الصدفي
حدیث نمبر: 948
عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلْتُهَا: كَيْفَ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَكَتْ؟ فَقَالَتْ: كَانَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ إِحْدَانَا، اتَّزَرَتْ بِالْإِزَارِ الْوَاسِعِ ثُمَّ الْتَزَمَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهَا وَنَحْرِهَا
جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں: میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گیا اور میں نے سوال کیا: جب تم میں سے کوئی حائضہ ہوتی تھی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کیا کرتی تھی؟ انھوں نے کہا: جب ہم میں سے کوئی اس حالت میں ہوتی تھی تو وہ کھلا سا ازار باندھ لیتی تھی اور اپنے ہاتھوں اور سینے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چمٹ جاتی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 948]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا شبه موضوع، صدقة بن سعيد الحنفي، تكلموا عليه، حتي قال ابن حبان: كان رافضيا يضع الحديث۔ أخرجه النسائي: 1/ 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25436»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 949
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ وَأَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ: ( (أَنَفِسْتِ؟) ) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَجَدْتُّ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ، قَالَ: ( (ذَاكِ مَا كُتِبَ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ) ) قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي فَاسْتَثْفَرْتُ بِثَوْبٍ ثُمَّ جِئْتُ مَعَهُ فِي لِحَافِهِ
سیدہ ام سلمہؓ سے مروی ہے وہ کہتی ہیں میں اس وقت حائضہ ہو گئی، جب میں اوررَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کپڑے میں تھے، پس میں کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں اسی چیز میں مبتلا ہو گئی ہوں، جس میں خواتین ہو جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز تو پھر بناتِ آدم پر لکھ دی گئی ہے۔ بہرحال میں چلی گئی اور اپنی حالت کو سنوار کر ایک کپڑے سے لنگوٹ کس لیا اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لحاف میں آ کر لیٹ گئی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 949]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 322، ومسلم: 296، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27060»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 322
حدیث نمبر: 950
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: حِضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِرَاشِهِ فَانْسَلَلْتُ، فَقَالَ لِي: ( (أَحِضْتِ؟) ) فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَشُدِّي عَلَيْكِ إِزَارَكِ ثُمَّ عُودِي) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بستر پر تھی کہ میں حائضہ ہو گئی، اس لیے میں وہاں سے کھسک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تو حائضہ ہو گئی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنا ازار اپنے اوپر کس لے اور پھر واپس آ جا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 950]
تخریج الحدیث: «حديث حسن لغيره۔ أخرجه مالك: 1/ 58، والطبراني في الاوسط: 549، والبيھقي: 1/ 311، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26030»
الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره۔ أخرجه مالك: 1/ 58
حدیث نمبر: 951
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بُدَيَّةَ قَالَتْ: أَرْسَلَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) إِلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ بَيْنَهُمَا قِرَابَةٌ، فَرَأَيْتُ فِرَاشَهَا مُعْتَزِلًا فِرَاشَهُ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِكَ لِهِجْرَانٍ، فَسَأَلْتُهَا فَقَالَتْ: لَا وَلَكِنِّي حَائِضٌ، فَأَتَيْتُ مَيْمُونَةَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا فَرَدَّتْنِي إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَتْ: أَرَغْبَةً عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ مَعَ الْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ الْحَائِضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا ثَوْبٌ مَا يُجَاوِزُ الرُّكْبَتَيْنِ
بُدَیّہ کہتی ہیں: زوجۂ رسول سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ نے مجھے سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓکی بیوی کی طرف بھیجا، ان دو کے درمیان رشتہ داری تھی، میں نے دیکھا کہ اس کا بستر سیدنا ابن عباسؓ کے بستر سے الگ تھلگ تھا، میں نے سمجھا کہ ناراضگی کی وجہ سے ایسا ہو گا، لیکن جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: کوئی ناراضگی نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میں حائضہ ہوں اور جب میرا حیض شروع ہو تا ہے تو وہ میرے قریب نہیں آتے، پس میں سیدہ میمونہ کے پاس آگئی اور ان کو یہ صورتحال بتائی، انھوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی طرف واپس کر دیا اور ان کی طرف یہ پیغام بھیجا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے بے رغبتی کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اپنی حائضہ بیویوں کے ساتھ سو تے تھے، جبکہ ان کے درمیان صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جو گھٹنوں سے بھی تجاوز نہیں کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 951]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: ما يجاوز الركبتين وھذا اسناد ضعيف لجھالة بدية مولاة ميمونة، ومحمد بن اسحاق مدلس۔ أخرجه مسلم: 295 بلفظ: عن ميمونة قالت: كان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم يضطجع معني وانا حائض وبيني وبينه ثوب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27356»
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله: ما يجاوز الركبتين وھذا اسناد ضعيف لجھالة بدية مولاة ميمونة