الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابٌ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَبْنِي عَلَى عَادَتِهَا وَفِي وُضُوئِهَا لِكُلِّ صَلَاةٍ
مستحاضہ کا اپنی عادت پر بنیاد رکھنے اور ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 967
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! قَدْ خَشِيْتُ أَنْ لَا يَكُونَ لِي حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ أُسْتَحَاضُ فَلَا أُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَٰذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تَخْشَى أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ وَأَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، تَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ تُسْتَحَاضُ فَلَا تُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، فَقَالَ: ( (مُرِي فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ فَلْتُمْسِكْ كُلَّ شَهْرٍ عَدَدَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ وَتَتَنَظَّفُ ثُمَّ تَطَهَّرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكِ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا) )
سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں سیدہ عائشہ ؓ کے پاس گئی اور کہا: اے ام المؤمنین! مجھے تویہ ڈر لگا ہوا ہے کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں جہنمی لوگوںمیں سے ہوں گی، کیونکہ جس دن سے مجھے استحاضہ کا خون آ رہا ہے، میں رکی ہوئی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی نماز نہیں پڑھ رہی، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری تک اِدھر ہی بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیشؓ ہیں، ان کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور یہ جہنمیوں میں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ استحاضہ والے دن سے ٹھہری ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لیے نماز نہیں پڑھ رہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ کو حکم دو کہ وہ ہر ماہ میں سے اپنے حیض کے دنوں میں (صوم و صلاۃ سے) رک جایا کرے، پھر غسل کر کے اپنی شرمگاہ میں کوئی روئی وغیرہ دے کر لنگوٹ کَس لے اور صفائی ستھرائی حاصل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کیا کرے اور نماز ادا کیا کرے، یہ شیطان کی طرف سے کوئی ٹھوکر مار دی گئی ہے یا کوئی رگ پھٹ گئی ہے یا کوئی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الدارقطني: 1/ 217، والحاكم: 1/ 175، والبيھقي: 1/ 354، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28183»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 968
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَتْ قَرْءُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ تَطَهَّرِي ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ) )
سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خون کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی رگ کامسئلہ ہے، پس تو دیکھ کہ جب تجھے حیض آئے تو تو نے نماز نہیں پڑھنی، جب حیض ختم ہو جائے تو طہارت حاصل کر کے اِس حیض سے اگلے حیض تک نماز پڑھ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 968]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 280، والنسائي: 1/ 121، وابن ماجه: 620، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28182»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 969
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ، فَقَالَ: ( (دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضِكِ ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت ابو حبیش ؓ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائیں اور کہا: میں استحاضہ کے خون میں مبتلا ہو گئی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کر اور ہر نماز کے لیے وضو کر کے نماز پڑھ، اگرچہ خون چٹائی پر گرتا رہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 969]
تخریج الحدیث: «أخرج نحوه البخاري: 228، 331، 306، ومسلم: 333، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26785»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 970
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهَرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لِتَنْظُرْ عِدَّةَ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهَا مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا بَلَغَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي) )
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ عہد ِ نبوی میں ایک عورت نے خون بہانا شروع کر دیا، پس جب سیدہ ام سلمہؓ نے اس کے لیے فتوی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مہینہ میں جتنی راتوں اور دنوں میں اس کو حیض آتا تھا، وہ ان کو دیکھ لے، جب وہ اس مقدار کو پورا کر لے تو غسل کرے اور کپڑے سے لنگوٹ باندھ کر نماز پڑھنا شروع کر دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 970]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 1/ 182، وابن ماجه: 623، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27252»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 971
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَإِنَّهَا اسْتُحِيضَتْ فَلَا تَطْهُرُ، فَذُكِرَتْ شَأْنُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ وَلَكِنَّهَا رَكْضَةٌ مِنَ الرَّحِمِ، فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ قَرْئِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ لَهُ فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ ثُمَّ لِتَنْظُرْ مَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَلْتُصَلِّ) )
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ بن جحشؓ، جو سیدہ عبد الرحمن بن عوفؓ کی بیوی تھیں، کو استحاضہ کا اتنا خون آنے لگ گیا کہ وہ پاک نہیں ہوتی تھیں، جب ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، یہ رحم میں کسی رگ کو ٹھوکر لگ گئی ہے، اس عورت کو جتنے دنوںمیں حیض آتا تھا، اس کو چاہیے کہ ان دنوں میں نماز ترک کر دے اور پھر دیکھ لے کہ ان کے بعد (طہر کے) کتنے دن بنتے ہیں، ان میں ہر نماز کے لیے غسل کر کے اس کو ادا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْحَيْضِ وَالْإِسْتِحَاضَةِ وَالنِّفَاسِ/حدیث: 971]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فلتغتسل عند كل صلاة ولتصل فھو غير محفوظ۔ أخرجه مسلم: 334 دون قوله ھذا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25485»
الحكم على الحديث: صحیح