🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابٌ فِي فَضْلِ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ
نمازِ فجر اور نمازِ عصر کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1065
عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
ابو بکر اپنے باپ (سیدنا ابو موسی اشعری)ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ٹھنڈے وقت کی دو نمازیں پڑھیں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 574، ومسلم: 635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16850»
وضاحت: فوائد: … عام علماء ان دو نمازوں سے عصر اور فجر کی نمازیں مراد لیتے ہیں۔ برد کا معنی ٹھنڈا ہے۔ عصر کا وقت دن کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے اور فجر کا وقت رات کے باقی وقت کے لحاظ سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ بھی کی جاتی ہے کہ برد کا معنی کنارہ ہے، دو کناروں کی نمازیں۔ نمازِ عصر دن کے کنارے اور نمازِ فجر رات کے کنارے میں پڑھی جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 574
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَ: أَخْبِرْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَلِجُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لَنْ يَلِجَ) النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ) ) قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ؟ (وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللَّهِ! لَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ
اہل بصرہ میں سے ایک آدمی نے رویبہ سے سوال کرتے ہوئے کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو بات سنی، اس کی مجھے بھی خبر دیجئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ آدمی جہنم میں داخل نہیں ہو گا، (اور ایک روایت میں ہے ہر گز داخل نہ ہوگا) جو طلوع آفتاب سے پہلے والی اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نماز ادا کرتا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: میرے کانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور دل نے اس بات کو یاد کیا ہے۔ اس بندے نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے بھی یہ کہتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 634، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18297 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18486»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 634
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1067
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً، يَتَعَاقَبُونَ مَلَائِكَةَ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةَ النَّهَارِ فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ كَانُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ، فَيَقُولُونَ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ) )
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں، وہ یکے بعد دیگرے آتے ہیں، وہ رات کے اور دن کے فرشتے ہیں، جو فجر اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اللہ کی طرف چڑھ جاتے ہیں، جو تمہارے اندر ہوتے ہیں اور اللہ ان سے سوال کرتا ہے، جبکہ وہ زیادہ جاننے والا ہے، پس پوچھتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے ان کو اس حالت میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے تو اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1067]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 555، ومسلم: 632، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7483»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 555
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
عَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَعَلَّمَنِي حَتَّى عَلَّمَنِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ لِمَوَاقِيتِهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَٰذِهِ لَسَاعَاتٌ أُشْغَلُ فِيهَا فَمُرْنِي بِجَوَامِعَ، فَقَالَ لِي: ( (إِنْ شُغِلْتَ فَلَا تُشْغَلْ عَنِ الْعَصْرَيْنِ) ) قُلْتُ: وَمَا الْعَصْرَانِ؟ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْغَدَاةِ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ) )
سیدنا فضالہ لیثی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تعلیم دی اور اوقات سمیت پانچ نمازیں سکھائیں، لیکن میں نے کہا: یہ تو میری مصروفیت کی گھڑیاں ہیں، آپ مجھے اس سے مختصر حکم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو مصروف رہتا ہے تو تجھے دو عصروں سے مشغول نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے کہا: دو عصریں کون سی ہوتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ فجر اور نمازِ عصر۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف صحيحه ديكھيں۔ أخرجه ابوداود: 428، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19024 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19233»

الحكم على الحديث: حديث ضعيف صحيحه ديكھيں۔ أخرجه ابوداود: 428
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1069
عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ: ( (إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ كَمَا تَرَوْنَ الْقَمَرَ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ) ) ثُمَّ تَلَى هَٰذِهِ الْآيَةَ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا} قَالَ شُعْبَةُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : لَا أَدْرِي قَالَ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَوْ لَمْ يَقُلْ
سیدنا جریر ؓ کہتے ہیں: ہم بدر والی رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم اپنے پروردگار کو ایسے ہی دیکھو گے، جیسا کہ چاند کو دیکھتے ہو، اور اس کی رؤیت میں تم پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی، پس اگر تمہیں طاقت ہو تو طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب سے پہلے والی نمازوں کے معاملے میں مغلوب نہ ہو جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: پس سورج کے طلوع ہونے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر۔ شعبہ کہتے ہے: میں یہ نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 554، 4851، 7434، ومسلم: 633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19404»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 554
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں