الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَجَبْرِ الْفَرَائِضِ بِالنَّوَاقِلِ
نفلی نماز کی فضیلت اور نوافل کے ذریعے فرائض کی کمی کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1070
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ) ) يَعْنِي الْقُرْآنَ
سیدنا ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بندے کی کسی ایسی چیز کو کان لگا کر نہیں سنا، جو اس کی ادا کی ہوئی دو رکعتوں سے زیادہ افضل ہو اور جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے، اس کے سر پر نیکی چھڑکی جاتی ہے اور لوگوں نے کسی ایسے عمل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کیا، جو عمل اس چیز جیسا ہو، جو اللہ تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قرآن مجید تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 2911، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22662»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس وليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 2911
حدیث نمبر: 1071
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ) )
سیدنا عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر میں بندے کا نماز پڑھنا نور ہے، پس جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منوّر کر لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه عاصم۔ أخرجه ابن ماجه: 1375، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 86 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 86»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الرجل الذي روي عنه عاصم۔ أخرجه ابن ماجه: 1375
حدیث نمبر: 1072
عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوِ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فَانْتَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ فَقَالَ: يَا فَتَى أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ؟ قُلْتُ: بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ، قَالَ: ( (إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ: انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَأَتَّمَهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ: أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ) ) قَالَ يُونُسُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) : وَأَحْسِبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
انس بن حکیم ضبّی کہتے ہیں: میں زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں ڈرنے لگا، اس لیے مدینہ منورہ میں سیدنا ابو ہریرہؓ کے پاس آگیا، انھوں نے مجھ سے نسب دریافت کیا، میں نے وہ بیان کر دیا، پھر انھوں نے کہا: اے نوجوان! کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کر دوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تجھے کوئی فائدہ دے دے؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک پہلی چیز کہ جس کے بارے میں روزِ قیامت بندوں کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ نماز ہے۔ ہمارا ربّ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہے گا، جبکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے: تم میرے بندے کی نماز کو دیکھو، کیا اس نے اس کو پوری طرح ادا کیا ہے یا ناقص؟ پس اگر وہ پوری ہوئی تو اس کے لیے پوری لکھی جائے گی اور اگر اس میں کوئی نقص ہوا تو اللہ تعالیٰ کہے گا: تم دیکھو کہ کیا میرے بندے کی کوئی نفلی نماز ہے؟ پس اگر اس کی نفلی نماز ہوئی تو وہ کہے گا: میرے بندے کی فرض نماز کو اس کی نفل نماز کے ذریعے پورا کر دو، پھر باقی اعمال کا محاسبہ بھی اسی طرح کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9490»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 864
حدیث نمبر: 1073
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا أَتَيْتَ أَهْلَ مِصْرَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَوَّلُ شَيْءٍ مِمَّا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ الْمَكْتُوبَةُ، فَإِنْ صَلَحَتْ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَإِنْ أَتَّمَهَا) وَإِلَّا زِيدَ فِيهَا مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ يُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوضَةِ كَذَلِكَ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوہریرہؓ نے مجھے کہا: جب تو مصر والوں کے پاس جائے تو ان کو بتانا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے قیامت کے روز محاسبہ کیا جائے گا، وہ فرض نماز ہے، پس اگر وہ مکمل ہوئی تو ٹھیک، وگرنہ اس کی نفلی نماز سے اس کی کمی کو پورا کیا جائے گا، پھر باقی تمام فرض اعمال کے ساتھ یہی معاملہ اختیار کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1425، والنسائي: 1/ 233، والترمذي: 413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7889»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 1425
حدیث نمبر: 1074
عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ، فَإِنْ كَانَ أَتَّمَهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَّمَهَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَتُكَمِّلُوا بِهَا فَرِيضَتَهُ، ثُمَّ الزَّكَاةُ كَذَلِكَ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسْبِ ذَلِكَ) )
ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلی چیز کہ جس کا بندے سے محاسبہ کیا جائے گا، وہ اس کی نماز ہے، پس اگر اس نے اس کو مکمل کیا ہو گا تو وہ پوری لکھ دی جائے گی اور اگر اس میں کمی کی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کہے گا: دیکھو، کیا تم میرے بندے کی کوئی نفلی نماز پاتے ہو، پس اسی سے اس کی فرض نماز کو پورا کر دو، پھر زکاۃ کا بھی اسی طرح محاسبہ کیا جائے گا اور پھر دوسرے اعمال کا بھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1074]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16731»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح