🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابٌ فِي وَعِيدِ مَنْ تَهَاوَنَ بِأَمْرِ الصَّلَاةِ أَوْ أَخَّرَهَا عَنْ وَقْتِهَا
نماز کے معاملے میں سستی کرنے والے یا اس کو اس کے وقت سے لیٹ کرنے والے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1075
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مِنْ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ مَعَ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ! انْظُرِي هَلْ حَانَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا مِنَ الظُّهْرِ الْآنَ مَعَ الْإِمَامِ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ: هَٰكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عبد اللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت کہتے ہیں: ہم ظہر سے فارغ ہو کر خارجہ بن زید کے ساتھ سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: لڑکی! دیکھو، کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس ہم نے ان سے کہا: ہم تو ابھی امام کے ساتھ ظہر پڑھ کر فارغ ہوئے ہیں، بہرحال انھوں نے عصر کی نماز پڑھی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس طرح نماز پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1075]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13272»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: انْصَرَفْتُ مِنَ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ، قَالَ: فَمَا قَعَدْنَا، مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا، قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ: الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ! قَالَ: قُلْنَا: أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: الْعَصْرُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّكُمْ تَرَكْتُمُ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسِيتُمُوهَا، أَوْ قَالَ: نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ) ) وَمَدَّ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى
مولائے ابن عباس زیاد بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں اور عمر نمازِ ظہر سے فارغ ہوئے، مدینہ کے گورنر ہشام بن اسماعیل نے نماز پڑھائی تھی، پھر ہم عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کی طرف گئے، وہ بیمار تھے، پس ہم ان کے پاس بیٹھے نہیں، کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کر لیا اور پھر ہم وہاں سے پلٹ کر سیدنا انس بن مالکؓ کے پاس ان کے گھر میں گئے، ان کا گھر ابو طلحہ کے گھر کے پہلو میں تھا، ہم ان کے پاس بیٹھے ہی تھے کہ ایک لڑکی نے آ کر کہا: ابو حمزہ! نماز پڑھو، ہم نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، کون سی نماز؟ انھوں نے کہا: نمازِ عصر، ہم نے کہا: ہم نے تو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھی ہے، انھوں نے کہا: تم نے نماز کو چھوڑ دیا ہے، یہاں تک کہ تم اس کو بھول گئے ہو، یا کہا: تم کونماز اس طرح بھلا دی گئی ہے کہ تم نے اس کو چھوڑ دیا ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح (قریب قریب کر کے) بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو کھڑا کر کے اشارہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرج البخاري في التاريخ الكبير: 3/ 355 المرفوع منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13517»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرج البخاري في التاريخ الكبير : 3/ 355 المرفوع منه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ لَا تُؤَخِّرُهُنَّ، الصَّلَاةَ إِذَا أَتَتْ وَالْجَنَازَةَ إِذَا حَضَرَتْ وَالْأَيِّمَ إِذَا وَجَدْتَ كُفُوًا) )
سیدنا علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین چیزوں کو لیٹ نہیں کرنا، نماز جب اس کا وقت آ جائے، جنازہ جب حاضر ہو جائے اوروہ عورت کہ جس کا خاوند نہ، جب تو اس کے لیے کوئی مناسب آدمی پا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني۔ أخرجه ابن ماجه: 1486، والترمذي: 171، 1075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 828»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني۔ أخرجه ابن ماجه: 1486
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الرَّجُلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ذَاكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنِهِ، أَوْ فِي أُذُنَيْهِ) )
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: بیشک فلاں آدمی آج رات نماز سے بھی سویا رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس آدمی کے کانوں میں پیشاب کر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1144، ومسلم: 774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3557»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1144
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7528»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِي أَئِمَّةٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ سُبْحَةً) )
سیدنا شداد بن اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے کہ وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لینا اور ان کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز کو نفلی بنا لینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 393، والطبراني في الكبير: 7155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17252»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 393
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّهَا سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَيُؤَخِّرُونَهَا عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلُّوهَا مَعَهُمْ، فَإِنْ صَلَّوْهَا لِوَقْتِهَا وَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَلَهُمْ وَإِنْ أَخَّرُوهَا عَنْ وَقْتِهَا فَصَلَّيْتُمُوهَا مَعَهُمْ فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ، مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ نَكَثَ الْعَهْدَ وَمَاتَ نَاكِثًا لِلْعَهْدِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ) ) قُلْتُ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ هَٰذَا الْخَبَرَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
سیدنا عاصم بن عبیداللہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے بعد عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بسا اوقات وقت پر نماز پڑھیں گے اور کبھی کبھار اس کو وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس اگر وہ وقت پر نماز پڑھیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو تو اس کا ثواب تمہارے لیے بھی ہو گا اور ان کے لیے بھی، لیکن اگر وہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں اور تم بھی ان کے ساتھ پڑھو، تو تمہیں تو ثواب ملے گا، لیکن اس کا وبال ان پر ہو گا، جوجماعت سے علیحدہ ہو گیا، وہ جاہلیت کی موت مرے گا اور جس نے معاہدہ توڑ دیا، عہد کو توڑنے والے کی حیثیت سے ہی مرے گا اور قیامت کے روز وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے حق میں کوئی حجت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1081]
تخریج الحدیث: «بعضه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله۔ أخرجه ابويعلي: 7201، وعبد الرزاق: 3779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15769»

الحكم على الحديث:
بعضه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1082
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُسْنِدِي ظَهْرِي إِلَى قِبْلَةِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةُ رَهْطٍ، أَرْبَعَةٌ مَوَالِينَا وَثَلَاثَةٌ مِنْ عَرَبِنَا، إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقَالَ: ( (مَا يُجْلِسُكُمْ هَاهُنَا؟) ) قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! نَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَأَرَمَّ قَلِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ؟) ) قَالَ: قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ( (فَإِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا وَلَمْ يُضَيِّعْهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَهُ عَلَيَّ عَهْدٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُصَلِّهَا لِوَقْتِهَا وَلَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا وَضَيَّعَهَا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهَا فَلَا عَهْدَ لَهُ، إِنْ شِئْتُ عَذَّبْتُهُ وَإِنْ شِئْتُ غَفَرْتُ لَهُ) )
سیدنا کعب بن عجرہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد ِ نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، ہم سات افراد اِس مسجد کی قبلہ والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے، چار ہمارے غلام تھے اور ہم تین عرب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، یہاں تک ہمارے پاس پہنچے، یہ نمازِ ظہر کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے اور پھر اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا ربّ کیا کہتا ہے؟ ہم نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارا ربّ کہتا ہے: جس نے بروقت نماز ادا کی اور اس کی مکمل حفاظت کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع نہیں کیا، پس اس کے لیے مجھ پر عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو وقت پر ادا نہ کیا اور اس کی مکمل حفاظت نہ کی اور اس کے حق کو ہلکا سمجھتے ہوئے اس کو ضائع کر دیا، اس کے لیے میرا کوئی عہد نہیں ہے، اگر میں چاہوں تو اس کو عذاب دوں اور چاہوں تو معاف کر دوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1082]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من كعب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 331، والدارمي: 1226، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 3174، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18312»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1083
عَنْ أَبِي يَسْرٍ الْأَنْصَارِيِّ كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي الصَّلَاةَ كَامِلَةً وَمِنْكُمْ مَنْ يُصَلِّي النِّصْفَ وَالثُّلُثَ وَالرُّبُعَ حَتَّى بَلَغَ الْعُشْرَ) )
صحابیٔ رسول سیدنا ابو یسر کعب بن عمرو انصاری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں کوئی آدمی پوری نماز پڑھتا ہے، کوئی نصف ادا کرتا ہے، کوئی ایک تہائی اور کوئی ایک چوتھائی، …۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسویں حصے تک پہنچ گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1083]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي في الكبري: 613، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15607»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي في الكبري : 613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1084
عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ) )
سیدنا نوفل بن معاویہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی نماز اس سے رہ گئی تو گویا کہ اس کا اہل اور مال اس سے چھین لیے گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1237، والشافعي: 1/ 53، وابن حبان: 1468، والبيھقي: 1/ 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23642 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24042»

الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 1237
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں