الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِهَا وَكَرَاهَةِ تَسْمِيَتِهَا بِالْعِشَاءِ
نمازِ مغرب کو جلدی ادا کر لینے اور اس کو عشاء کا نام دینے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1153
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا صَلَّوْا الْمَغْرِبَ قَبْلَ طُلُوعِ النُّجُومِ) )
سیدنا سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی، جب تک نمازِ مغرب کو ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کرتی رہے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1153]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 1/ 448، والطبراني في الكبير: 6671، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15808»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 1/ 448
حدیث نمبر: 1154
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي فِي مُسْكَةٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ، مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ بِانْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ، وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ إِمْحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا) )
سیدنا ابو عبد الرحمن صنابحی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک ہمیشہ خیر پر برقرار رہے گی، جب تک یہ تین کام نہیں کرے گی: یہودیوں کی مشابہت کرتے ہوئے اندھیرے کے انتظار میں مغرب کو لیٹ کرنا، عیسائیوں کی مشابہت کرتے ہوئے ستاروں کے چھپ جانے تک فجر کو مؤخر کرنا اور جنازے کو اس کے اہل کے سپرد کر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1154]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحارث بن وھب مجھول الحال۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3263، وعبد الرزاق: 6530، والحاكم: 1/ 370، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19277»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 1155
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيِّ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، وَيَزَنُ بَطْنٌ مِنْ حِمْيَرَ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو أَيُّوبَ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِصْرَ غَازِيًا وَكَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَبَسٍ الْجُهَنِيُّ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: فَحَبَسَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ بِالْمَغْرِبِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ) فَلَمَّا صَلَّى قَامَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ لَهُ: يَا عُقْبَةُ! أَهَٰكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ أَمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ أَوْ عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ) ) قَالَ: فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: شُغِلْتُ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: أَمَا وَاللَّهِ! مَا بِي إِلَّا أَنْ يَظُنَّ النَّاسُ أَنَّكَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ هَٰذَا
مرثد بن عبد اللہ یزنی کہتے ہیں: صحابیِ رسول سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری ؓ جہاد کرنے کے لیے مصر تشریف لائے، سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو ہمارا امیر بنایا ہوا تھا، ایک دن سیدنا عقبہؓ نمازِ مغرب سے مصروف ہو گئے اور اس نماز کو لیٹ کر دیا، پس جب انھوں نے نماز پڑھائی تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ ان کی طرف گئے اور ان سے کہا: عقبہ! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے؟ کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ میری امت اس وقت تک خیر یا فطرت پر رہے گی، جب تک نماز مغرب کو ستاروں کے خلط ملط ہونے تک لیٹ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا؛ جی کیوں نہیں، انھوں نے کہا: تو پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں مشغول ہو گیا تھا۔ سیدنا ابو ایوبؓ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! مجھے اس میں کوئی حرج محسوس نہیں ہو رہی، لیکن یہ خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 418، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17462»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 418
حدیث نمبر: 1156
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ (يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ) ) قَالَ: وَتَقُولُ الْأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ
سیدنا عبد اللہ بن مغفل مزنی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر گز ایسا نہ ہو کہ کہ بدّو لوگ نمازِ مغرب کے نام کے سلسلے میں تم پر غالب آ جائیں۔ بدّو اِس نماز کو عشاء کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20827»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 563