🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ وَقْتِ الْمَغْرِبِ وَأَنَّهَا وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ
مغرب کے وقت کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ نماز دن کی نمازوں کو طاق کرنے والی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1147
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُنَا إِلَى بَنِي سَلِمَةَ وَهُوَ يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے، پھر ایک آدمی فارغ ہو کر بنوسلمہ کی طرف آتا، لیکن وہ اس وقت بھی اپنے تیروں کے گرنے کی جگہیں دیکھ لیتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1147]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 328، وأخرجه بنحوه ابوداود: 416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12160»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1148
عَنْ حَسَّانَ بْنِ بِلَالٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْتَمُونَ يُبْصِرُونَ وَقْعَ سِهَامِهِمْ
اسلم قبیلے کا ایک صحابی بیان کرتا ہے کہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نمازِ مغرب ادا کرتے، پھر مدینہ سے دور اپنے گھروں کی طرف لوٹتے اور تیر پھینکتے اور اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23536»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1149
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا
سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے، جب سورج غروب ہو جاتا اور اس کی ٹکیہ کا کنارہ غائب ہو جاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 636، وأخرجه بنحوه البخاري: 561، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16647»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1150
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلُّوا الْمَغْرِبَ لِفِطْرِ الصَّائِمِ وَبَادِرُوا طُلُوعَ النُّجُومِ) )
سیدنا ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے دار کی افطاری کے وقت نمازِ مغرب پڑھا کرو اور ستاروں کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني: 4059، وابن ابي شيبة: 1/ 329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23580 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23977»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1151
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (بَادِرُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ قَبْلَ طُلُوعِ النَّجْمِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ستارے کے ظہور سے پہلے ہی نمازِ مغرب ادا کر لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23918»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1152
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ مغرب، دن کی نماز کا وتر ہے، پس رات کی نماز کو بھی وتر بنایا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری حصے میں وتر ایک رکعت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1152]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله: صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوْا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وقد رواه عدة موقوفا۔ أخرجه النسائي في الكبري: 1382، وعبد الرزاق: 4675، وابن ابي شيبة: 2/ 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5549»
وضاحت: فوائد: … بہرحال یہ تو ثابت ہے کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور اس کے آخر میں ایک کعت وتر ادا کیا جا سکتا ہے۔ وتر اگرچہ رات کے آخری حصہ میں پڑھنا افضل ہے۔ لیکن یہ عشاء کی نماز کے بعد سے لے کر طلوعِ فجر سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔ (بخاری: ۹۹۶) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں