الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابٌ فِي النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ صَلَاتَيِ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ
فجر اور عصر کی نمازوں کے بعد مزید نماز پڑھنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 1201
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا، الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ) )
سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازیں ہیں، ان کے بعد مزید نماز نہیں پڑھی جاتی، ایک نمازِ فجر ہے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور دوسری نمازِ عصر ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1201]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 773، وابن حبان: 1549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1469»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 773
حدیث نمبر: 1202
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
سیدنا ابو سعید خدری ؓ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1202]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1197، 1864، 1995، و مسلم: 827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11901 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11923»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1197
حدیث نمبر: 1203
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ أَوْ تَضْحَى) )
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نمازِ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے اور نمازِ فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے یا چاشت کا وقت ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1203]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 582، 583، ومسلم: 828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5010»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 582
حدیث نمبر: 1204
عَنْ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَدِّهِ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ الْقُرَشِيِّ أَنَّهُ طَافَ بِالْبَيْتِ مَعَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ بَعْدَ الْعَصْرِ أَوْ بَعْدَ الصُّبْحِ فَلَمْ يُصَلِّ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ) )
نصر بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دادے سیدنا معاذ بن عفراء قرشی ؓ کے ساتھ عصر یا فجر کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن انھوں نے طواف کی نماز ادا نہ کی، جب نصر نے ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو نمازوں کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، نمازِ فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے او رنمازِ عصر کے بعد یہاں تک سورج غروب ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1204]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 258، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18090»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 1/ 258
حدیث نمبر: 1205
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ (بْنُ الْخَطَّابِ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: پسندیدہ لوگوں نے میرے پاس شہادت دی اور ان میں مجھے سب سے پسندیدہ سیدنا عمر بن خطاب ؓہیں، شہادت یہ دی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک اور فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1205]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 581، ومسلم: 826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 110»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 581