🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. 2 - بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ وَالْمُؤَذِّنِينَ وَالْأَئِمَّةِ
اذان، اذان کہنے والوں اور اماموں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِمَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا) ) فَقُلْتُ لِمَالِكٍ: أَمَا يَكْرَهُ أَنْ يَقُولَ الْعَتَمَةَ؟ قَالَ: هَٰكَذَا قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان کہنے اور پہلی صف کے اندر شامل ہونے میں کیا فضیلت ہے تو وہ ان پر قرعہ ڈالیں اور اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز کی طرف جلدی پہنچنے میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور اگر وہ جان لیں کہ نماز عشاء اور نماز فجر میں کیا اجر ہے تو یہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شامل ہوں اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔ عبد الرزاق کہتے ہیں: میں نے مالک سے پوچھا کہ کیا عشاء کی نماز کو عَتَمَۃ کہنا مکروہ نہیں ہے؟ انھوں نے کہا: جس نے مجھے حدیث بیان کی اس نے ایسے ہی کہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 615، 653، 654، 720، 2689، ومسلم: 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7724»
وضاحت: فوائد: … نماز ِ عشاء کو عَتَمَۃ کہنا جائز ہے، تفصیلی بحث آگے گی۔
سیّدناابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 615
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1245
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي التَّأْذِينِ لَتَضَارَبُوا عَلَيْهِ بِالسُّيُوفِ) )
سیّدنا ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو علم ہو جائے کہ اذان کہنے میں کیا(اجروثواب)ہے تو وہ اس (ثواب کے حصول کے لیے) تلواروں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑ پڑیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1245]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف،لضعف دراج، وھو ابن سمعان ابو السمح، في روايته عن ابي الهيثم۔ و ابن لھيعة سيء الحفظ۔ أخرجه عبد بن حميد في المنتخب: 934۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11261»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اذان اور اقامت کہنے کا بھی حکم دیا تھا۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں میں تساہل نہیں برتنا چاہیے۔ (صحیحہ: ۴۱)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1246
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَعْجَبُ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ الشِّعْبِ لِلْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَٰذَا، يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ يَخَافُ شَيْئًا، قَدْ غَفَرْتُ لَهُ وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ) )
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا ربّ عزوجل پہاڑ کی چوٹی پر اذان کہہ کر نماز ادا کرنے والے بکریوں کے چرواہے پر تعجب کرتا (یعنی خوش ہوتا) ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو کہ اذان کہتا ہے اور اقامت کہتا ہے، یہ کسی ذات سے ڈرتا ہے، یقینا میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1246]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔أخرجه ابوداود: 1203، والنسائي: 2/20، وابن حبان: 1660، والبيھقي: 1/ 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17579»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔أخرجه ابوداود: 1203
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِسَنَدٍ صَحِيحٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَعْجَبُ رَبُّكَ …) ) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: ( (يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ فَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ) )
اوردوسری سند کے ساتھ مروی حدیث کے الفاظ یہ ہیں: وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ کا رب تعجب کرتا ہے پھرسابقہ حدیث کا معنی بیان کیا، البتہ آخری الفاظ یوں بیان کیے: یہ مجھ سے ڈرتا ہے، سو میں نے اسے بخش دیا اور جنت میں داخل کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث بالطريق الاول: 228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17580»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں اس آدمی کا تذکرہ ہو رہا ہے، جو لوگوں سے دور ہے اور کسی مسجد میں پہنچنا اس کے لیے ناممکن ہے۔ وہ نیکی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے جو خلوت میں کی جائے، جہاں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، جہاں اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد صرف اور صرف خشیت ِ الٰہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہماری خلوتوں اور جلوتوں میںیکسانیت پیدا ہو جائے۔ (آمین) لیکن ذہن نشین رہے کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو مقدم سمجھا جائے، مثلا نمازِ باجماعت ادا کرنا، اس کا تعلق خلوت سے نہیںہے۔ اب اگر کوئی آدمییہ کہنا شروع کر دے کہ وہ فرضی نماز بھی خلوت میں ادا کرے گا، تو اس کا یہ کہنا درست نہ ہو گا، کیونکہ شرعی فیصلہ جماعت کے حق میں ہے۔ ہاں اگر کسی کو نماز باجماعت کی وجہ سے ریاکاری اور نمود و نمائش کا خطرہ ہو تو وہ تعوذ پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے خلوص کی توفیق طلب کرے، نہ یہ کہ وہ جماعت ہی ترک کر دے۔ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقہ الحدیثیہ ہے کہ اکیلے آدمی کو بھی اذان کہنی چاہیے، امام نسائی نے اس حدیث پر یہی باب قائم کیا ہے۔ مسيء الصلاۃ والی حدیث کے بعض طرق کے مطابق نبی

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1248
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (عَلَى الْفِطْرَةِ) ) فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَرَجَ مِنَ النَّارِ) ) فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ، فَنَادَى بِهَا
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے، ہم نے ایک اذان کہنے والے کو سنا، وہ اللہ اکبر، اللہ اکبر کہہ رہا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ سن کر فرمایا: یہ شخص فطرتِ اسلام پر ہے۔ پھر جب اس نے اشہد أن لا الہ إلا اللہ کہا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (جہنم کی) آگ سے نکل گیا ہے۔ پھر ہم جلدی جلدی اس کی طرف گئے، وہ جانوروں کا ایک چرواہا تھا،جسے نماز نے پالیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، وله شواھد۔ أخرجه أبو يعلي: 5400، والبيھقي: 1/ 405، والنسائي في الكبري: 10665، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3861»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان سنتے وقت بیچ میں کوئی اور بات بھی کی جا سکتی ہے، بہرحال مؤذن کے کلمات کا صدقِ دل سے جواب دینا متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1249
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوُهُ، وَفِيهِ فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ (يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) : ( (شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ) ) قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: ( (خَرَجَ مِنَ النَّارِ، انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُكَلِّبًا) ) وَفِي رِوَايَةٍ: ( (تَجِدُونَهُ رَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ) ) فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا
سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث جیسی روایت مروی ہے، البتہ اِس میں یہ الفاظ ہیں: جب اس اذان کہنے والے نے اشہد أن لا إلہ إلا اللّٰہ کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے حق کی گواہی دی ہے۔ جب اس نے أشہد أن محمدًا رسول اللّٰہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ سے نکل گیا ہے، دیکھو تم اسے یا تو گھاس کی تلاش میں دور نکلنے والا چراواہا یا کتوں سے شکار کرنے والا شکاری پاؤ گے۔ اور ایک روایت میں ہے تم اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے گھر والوں سے دور نکلنے والا پاؤ گے۔ پھر جب انہوں نے دیکھا تو وہ چرواہا نکلا، چونکہ نماز کا وقت ہوگیا تھا، اس لیے اس نے اذان کہی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الصغير: 768، والخطيب البغدادي في تاريخه: 8/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22134 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22485»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الصغير : 768
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1250
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَغْفِرُ اللَّهُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَهُ) )
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخشتا ہے اور اس کے لیے اس کی آواز سننے والی ہر تر اور خشک چیز گواہی دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1250]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا سند قوي۔ أخرجه البزار: 355، والطبراني في الكبير: 13469، وأخرجه البيھقي: 1/ 431 موقوفا۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6201 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6201»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1251
(وَفِي لَفْظٍ) يَغْفِرُ اللَّهُ لِلْمُؤَذِّنَ مُنْتَهَى أَذَانِهِ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ سَمِعَ صَوْتَهُ
اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: اللہ تعالیٰ مؤذن کو اس کی اذان کی آواز کی انتہا تک بخش دیتا ہے اور اس کی آواز کو سننے والی ہر چیز اس کے لیے بخشش طلب کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، انظر الحديث بالطريق السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6202»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1252
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤذن کو اس کی آواز کے پھیلاؤ کے برابر بخش دیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر خشک اور ترچیز گواہی دیتی ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے کے لیے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دو نمازوں کے درمیان والے گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه الطيالسي: 2542، وابن ماجه: 724، وابوداود: 515، والنسائي: 2/ 12، وابن حبان: 1666، والبيھقي: 1/ 397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9317»
وضاحت: فوائد: … یہ مؤذن کا شرف ہے کہ وہ اس قدر وسیع مغفرت کا مستحق بنتا ہے، اور اس کا یہ مفہوم بیان کرنا بھی درست ہے کہ یہ ایک تشبیہ و تمثیل ہے، یعنی اگر بالفرض اس کے گناہ اتنی جگہ میں بھی پھیلے ہوئے ہوں تو وہ بھی بخش دیئے جائیں گے۔
جمادات، حیوانات، نباتات غرضیکہ کائنات کی ہر چیز میں علم، ادرک اور شعور پایا جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ انسان کو ان کی کیفیت کا علم ہو۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہ} (سورۂ اسرائ: ۴۴) یعنی: ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مزید فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} (سورۂ بقرہ: ۷۴) یعنی: اور بعض پتھر اللہ کی خشیت سے گر پڑھتے تھے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں، جو مجھ پر سلام کہتا تھا۔ اور صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ جہنم کی آگ نے کہا: میرا
بعض میرے بعض کو کھا رہا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس حقیقت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس لیے غیر انسانی مخلوق کا مؤذن کے حق میں شہادت دینا کوئی بعید بات نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه الطيالسي: 2542
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1253
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ ارْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ) )
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ ائمہ کی راہنمائی فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 517، والبيھقي: 1/ 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9943»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقتدیوں کی نماز کی مقبولیت امام کی نماز کی مقبولیت کے ساتھ معلق نہیں ہے، بہرحال لوگوں کی نمازوں کا امام کے ساتھ گہرا تعلق ہے، وہ وقت کی کتنی پاسداری کرتا ہے، بہترین نماز کے لیے نمازیوں کے حالات اور کیفیات کو مد نظر رکھ کر ان کا کس قدر خیال رکھتا ہے، اس کا طرزِ حیات کس حد تک پسندیدہ ہے کہ اس کے مقتدی اس کی اقتدا میں نماز پڑھ کر لطف محسوس کرتے ہوں۔ اسی طرح امام مسنون نماز پڑھانے اور دعاؤں میں مقتدیوں کو شامل رکھنے جیسے امور کی بھی پابندی کرے۔ اوقاتِ نماز اور سحر و افطار جیسے معاملات میں لوگوں کا کلی اعتماد مؤذن پر ہوتا ہے، اس لیے اسے بھی اس ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے، تاکہ لوگوں کی عبادات بروقت انجام پا سکیں۔ امامت اور اذان دینا اسلامی معاشرے کے باوقار مناصب ہیں، اس لیے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے اور بلاوجہ ان کی تحقیر نہ کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام اور مؤذن دونوں کی ذمہ داریوں اور ان میں ممکنہ کوتاہیوں کو سامنے رکھ کر ان کے لیے مختلف دعائیں کیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 517
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں