🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

50. بَابُ مَا يَقُولُ الْمُسْتَمِعُ عِنْدَ سَمَاعِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ وَبَعْدَ الْأَذَانِ
آدمی اذان اور اقامت سنتے وقت اور اذان کے بعد کیا کہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1292
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ) )
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جیسے مؤذن کہتا ہے ویسے تم بھی کہا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1292]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه البخاري: 611، ومسلم: 383، وابوداود: 522، والترمذي: 208، والنسائي: 2/ 23، وابن ماجه: 720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11020/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11033»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه البخاري: 611
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1293
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا النَّبِيَّ الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَّهُ إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّداً نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَّہُ إِلاَّ حَلَّتْ لَہُ الشَّفَاعَۃُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور اس کو اس مقامِ محمود پر پہنچا جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ … تو اس کے لیے قیامت کے دن میری سفارش واجب ہو گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 614، 4719، وابوداود: 529، وابن ماجه: 722، والترمذي: 211، والنسائي: 2/ 26، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14877»
وضاحت: فوائد: … اذان کو دعوتِ تامّہ کہا گیا، جو توحید و رسالت پر مشتمل ہے اور جس میں خیر و فلاح کی طرف آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قائم رہنے والی نماز سے مراد یہ ہے کہ عبادت کا یہ انداز ہر امت میں باقی رہا۔ جنت میں سب سے اعلی منزل کا نام وسیلہ ہے اور فضیلت سے مراد سب سے بڑھ کر عالی مرتبہ ہونا ہے۔ صحیح بخاری (۷۴۴۰) سے ثابت ہوتا ہے کہ مقام محمود سے مراد میدان حشر کا وہ مقام ہے، جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلق اللہ کے لیے شفاعت کی خاطر سجدہ کریں گے اور یہ سجدہ سات دن رات تک طویل ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سجدے میں وہ حمد و ثنا بیان کریں گے، جو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملے گا کہ آپ اپنا سر اٹھائیں اور سفارش کریں، آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 614
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1294
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي: اللَّهُمَّ رَبَّ هَٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ النَّافِعَةِ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَارْضَ عَنِّي رِضًا لَا تَسْخَطُ بَعْدَهُ اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ) )
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مؤذن کی اذان سن کر یہ دعا پڑھے: ((اللَّہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ النَّافِعَۃِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ وَارْضَ عَنِّی رِضاً لَا تَسْخَطُ بَعْدَہُ اِسْتَجَابَ اللّٰہُ لَہُ دَعْوَتَہُ۔)) اے اللہ! اس مکمل دعوت اور فائدہ دینے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج، اور مجھ سے ایسا راضی ہو جا کہ جس کے بعد تو ناراض نہ ہو۔ … تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی دعا قبول کرلیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1294]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة۔ أخرجه الطبراني في الاوسط: 196، وابن السني في عمل اليوم والليلة: 96، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14674»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ ابن لھيعة۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 196
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1295
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، حَتَّى إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَلَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
عبد اللہ بن علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: میں سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، جب ان کے مؤذن نے اذان کہی تو انھوں نے وہی (کلمات) کہے جو مؤذن کہتا تھا، حتی کہ جب اس نے حَيَّ عَلَی الْفَـلَاحِ کہا تو سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّہَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا اور اس کے بعد وہی کہا جو مؤذن نے کہا، پھر یہ بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی کہتے ہوئے سنا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16831 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16956»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه النسائي: 2/ 25
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1296
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَشَهَّدُ مَعَ الْمُؤَذِّنِينَ
سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذنوں کے ساتھ شہادت والے کلمے کہا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 614، والنسائي: 2/ 24، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16966»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 614
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1297
عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمُؤَذِّنِ وَكَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَيْنِ، فَكَبَّرَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِثْنَتَيْنِ، فَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: هَٰكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
مجمع بن یحی انصاری کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور وہ مؤذن کی طرف رخ کیے ہوئے تھے، مؤذن نے دو دفعہ اللہ اکبر کہا، جواب میں سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو دفعہ اللہ اکبر کہا، مؤذن نے دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، سیّدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے بھی دو مرتبہ أشہد أن لا إلہ إلا اللہ کہا، پھر مؤذن نے دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللہ کہا تو سیّدنا ابو امامہ نے بھی دو دفعہ أشہد أن محمدا رسول اللّٰہ کہا، پھر میری طرف رُخ کر کے فرمایا: مجھے سیّدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے ہی بیان کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصلاة/حدیث: 1297]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1688، وأخرجه البخاري: 612، 613، والنسائي: 2/ 24 بالفاظ مختلفة۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16828، 16841،16862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16987»
وضاحت: فوائد: … اذان کے موقع پر کیے جانے والے اذکار کا خلاصہ یہ ہے، مذکورہ بالا احادیث میں ان کے اجرو ثواب کا ذکر ہو چکا ہے:
۱۔صدقِ دل سے مؤذن کے ساتھ اذان کے کلمات دوہرانا اور حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح کے جواب میں لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ کہنا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمد رسول اللہ کے جواب میں اَنَا (اور میں بھی) کہنا بھی درست ہے۔ (مسلم)
۲۔اذان کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا
۳۔پھر یہ دعاپڑھنا: ((اَللّٰہُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ آتِ محُمَّدًا نِ الْوَ سِیْلَۃَ وَالْفَضَیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا نِ الَّذِی أَ نْتَ وَعَدْتَہ۔)) اس دعا کے آخر میں اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادِ کا اضافہ کرنا بھی درست ہے۔
۴۔ ((وَأَنَا أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ رَضِینَا باِللّٰہِ رَبَّا وَّبِمُحَمَّدٍ رَّسُوْلًا وَّبِا لإِْ سْلَامِ دِیْنًا۔)) یہ دعا کب پڑھی جائے؟ اسی باب میں اس پر بحث ہو چکی ہے۔
تنبیہ: … کیا اقامت کے کلمات کا بھی جواب دینا چاہیے؟ بعض اہل علم نے درج ذیل روایت اور اس مفہوم کی روایات سے یہ استدلال کیا ہے کہ اقامت کا بھی جواب دے جائے: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَائَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ۔)) یعنی: جب تم ندا سنو تو اس طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ (صحیح بخاری: ۶۱۱، صحیح مسلم: ۳۸۳)
استدلال: … چونکہ ندا کا لفظ عام ہے، اس کا اطلاق اذان اور اقامت دونوں پر ہوتا ہے، اس لیے اقامت کے کلمات کا جواب بھی دینا چاہیے۔ لیکنیہ استدلال محل نظر ہے، کیونکہ اس موضوع کی کئی روایات میں صرف اذان کو موضوع بحث بنا کر اس کے کلمات کا جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیےیہاں بھی ندا کے لفظ کو اذان پر محمول کرنا چاہیے۔ اس حدیث کے لفظ مؤذن سے بھییہ اشارہ ملتا ہے کہ اس حدیث میں ندا سے مراد اذان ہے۔ وگرنہ جہاں بھی لفظ ندا اور مؤذن استعمال ہو گا، ان سے اذان اور اقامت دونوں کو مراد لیا جائے گا، مثلا: سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ قَالَ حِیْنَیَسْمَعُ النِّدَائَ: اَللّٰھُمَّ رَبَّّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ … … حَلَّّتْ لَہٗشَفَاعَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیح بخاری: ۶۱۴)
ہماری رائے یہ ہے کہ کسی واضح دلیل سے اقامت کے کلمات کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا، اس لیےیہ اہتمام نہیں ہونا چاہیے۔ اس موضوع کی درج ذیل حدیث واضح ہے، لیکن اس کی سند کمزور ہے:
سیّدنا ابو امامہ یا کسی دوسری صحابی سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کی، جب انھوں نے قَدْ قَامَتِ الصَّلَاۃُ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَقَامَھَا اللّٰہُ وَ اَدَامَھَا (اللہ اس کو قائم دائم رکھے) اور دیگر کلمات کے جواب میں اسی طرح کہا جیسے سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی (اذان والی) حدیث میں گزراہے۔ (ابوداود: ۵۲۸)
یہ حدیث تین وجوہات کی بنا پر ضعیف ہے:
۱۔محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہے۔
۲۔ رجل من اہل الشام مبہم یعنی مجہول ہے۔
۳۔شہر بن حوشب متکلم فیہ ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1688
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں