الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ تَنْزِيهِ الْمَسَاجِدِ عَنِ الْأَقْذَارِ
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1350
عَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: هَٰكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
سیّدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت مجھ پر اپنے اچھے اور برے اعمال کے ساتھ پیش کی گئی، میں نے ا ن کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا اور برے اعمال میں مسجد میں غیر مدفون کھنکاردیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21549، 21550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16105»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 553
حدیث نمبر: 1351
عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِذَا صَلَّيْتَ فَلَا تَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْصُقْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَتَحْتَ قَدَمَيْكَ وَادْلُكْهُ) )
سیّدنا طارق بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو اپنے آگے اور دائیں طرف نہ تھوک، البتہ اپنی بائیں جانب تھوک لیا کر، بشرطیکہ وہ خالی ہو (یعنی اس طرف کوئی نمازی نماز نہ پڑھ رہا ہو)، وگرنہ اپنا قدم اٹھا اور (اس کے نیچے تھوک کر) اسے مل دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 571، والنسائي: 2/ 52، وابن ماجه: 1021، وابن خزيمة: 876، الطيالسي: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27221، 27222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27764»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا احادیث مین یہ صراحت کردی گئی ہے کہ مسجد میں تھوکنا غلطی ہے، اگر تھوکنا پڑ جائے تو درج ذیل آداب کو مد نظر رکھا جائے:
٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب
٭ قبلہ سمت میں نہیں تھوکنا
٭ دائیں جانب نہیں تھوکنا
٭ اگر بائیں جانب کوئی نمازی ہو تو اس طرف بھی نہیں تھوکنا، بصورت دیگر کوئی حرج نہیں
٭ بائیں جانب نمازی ہونے کی صورت میں بائیں پاؤں کے نیچے تھوک کر اسے رگڑ دینا
٭ یا پھر کپڑے پر تھوک کر اسے مل دینا
یہ آداب اس وقت مرتب کیے گئے، جس وقت مسجد نبوی کی زمین کچی تھی۔ موجود دور میں قالین، پکا فرش اور پتھر وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے صرف آخری طریقہ استعمال کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم بالصواب
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 571