الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْمَسْجِدِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ وَآدَابِ الْجُلُوسِ فِيهِ وَالْمُرُورِ
مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت دعائیں پڑھنے¤اور مسجد میں بیٹھنے اور وہاں سے گزرنے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 1331
عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ وَأَبَا أُسَيْدٍ يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لَنَا أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ
عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری کہتے ہیں کہ میں نے سیّدنا ابو حمید اور سیّدناابو اسید رضی اللہ عنہما دونوں سے سنا، وہ یہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: اللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ، اے اللہ! تو اپنی رحمت اور جب مسجد سے نکلے تو یہ پڑھے: أَللّٰھُمّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 713،والنسائي: 2/ 53، وأخرجه ابوداود: 465 و زاد: ((فليسلم او ليصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16154»
وضاحت: فوائد: … چونکہ مسجد آخرت کی تجارت کا محل ہے، اس لیے اس میں داخل ہوتے وقت خصوصیت کے ساتھ رحمت کا سوال کیا جاتا ہے اور عام طور پر مومن رزق کی تلاش کے لیے مسجد سے نکلتا ہے، اس لیے اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل کا سوال کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 713
حدیث نمبر: 1332
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرْضَاهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ) ) ) وَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ) ) ، وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: ( (بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ) ) ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ) ) )
سیدۃ فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا وارضاھا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے: یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ (اللہ کے نام کے ساتھ، اور رسول اللہ پر سلامتی ہو) اور پھر یہ پڑھتے: اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجتے، اور ایک روایت میں ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ کہتے اور پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: ((اللھم اغفر لي ذنوبي)) فحسن۔ أخرجه الترمذي: 314، وابن ماجه: 771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26416، 26419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26951»
وضاحت: فوائد: … مسجد میں داخل ہوتے وقت یا خارج ہوتے وقت کی دعاؤں پر دلالت کرنے والی مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ مزید روایات درج ذیل ہیں، آخر میں خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (میں عظمت والے اللہ، اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم بادشاہت کی پناہ میں آتا ہوں، شیطان مردود سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمییہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ شخص سارا دن یا دن کے باقی حصے میں مجھ سے محفوظ ہو گیا۔ (ابوداود: ۴۶۶)
سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ … کہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳)
خلاصۂ کلام: … ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں:
٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں:
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔
٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
سیّدنا ابو حمیدیا ابو اسید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ (اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے) اور جب نکلے تو کہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں) (صحیح مسلم: ۷۱۳) لیکن ابوداود (۴۶۵) کی روایت میں شروع مین یہ اضافہ ہے: جب آدمی مسجد میں داخل ہو تو نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر اَللّٰھُمَّ افْتَحْ … کہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہو تو وہ نبی کے لیے سلامتی کی دعا کرے اور پھر یہ دعا پڑے: اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ اور جب نکلے تو پھر نبی پر سلامتی بھیجے اور یہ پڑے: اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ابن ماجہ: ۷۷۳)
خلاصۂ کلام: … ان احادیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت کی مندرجہ ذیل مختلف دعائیں ثابت ہوئیں:
٭ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَ للّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔
مسجدسے نکلتے وقت کی مختلف دعائیں:
٭ بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللَّہِ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ فَضْلِکَ۔
٭ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ۔
٭ اَلسَّلَامُ عَلٰی نَبِیِّ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اعْصِمْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1333
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهِبٍ عَنْ مَوْلَى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبٍ مُشَبِّكًا أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا بِبَعْضٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَفْطِنِ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ: ( (إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ فَإِنَّ الِاشْتِبَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَادَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ) )
عبید اللہ بن عبدالرحمن بن موہب، سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ایک غلام سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم مسجد میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد کے درمیان میں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کرگوٹھ مارے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اشارہ فرمایا، مگر وہ آدمی نہ سمجھ پایا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو تو وہ انگلیوں میں تشبیک نہ ڈالے، کیونکہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے اور یقینا جب تک کوئی آدمی مسجد میں رہتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے حتی کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف علي خطأ فيه، عبيد الله بن عبد الله بن موھب، قال احمد والشافعي: لايعرف، وقال ابن القطان الفاسي: مجھول الحال، وعبيد الله بن عبد الرحمن بن موھب ليس بالقوي، ومولي ابي سعيد لم نعرفه۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 75، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11385، 11512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11405»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف علي خطأ فيه
حدیث نمبر: 1334
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي: ( (يَا كَعْبُ! إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ، فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ) )
سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں میرے پاس اس حالت میں آئے کہ میں نے انگلیوں کے درمیان تشبیک ڈالی ہوئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے کعب! جب تم مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کرو،کیونکہ جب تک تم نماز کے انتظار میں رہتے ہو تب تک نماز میں ہی ہوتے ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967، وابن خزيمة: 444، وأخرجه ابوداود بلفظ: ((اذا توضأ أحدكم فأحسن وضوء ه ثم خرج عامدا)): 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18103، 18115، 18130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18310»
وضاحت: فوائد: … تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ لیکن ذہن نشین رکھیں کہ تشبیک مطلق طور پر منع نہیں ہے، بلکہ صرف اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو، کیونکہ ایک حدیث میں تشبیک سے منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ جب آدمی نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہا ہوتو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیّدنا ابو ہریرہ اور سیّدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)
الحكم على الحديث: حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 967
حدیث نمبر: 1335
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا مَرَرْتُمْ بِالسِّهَامِ فِي أَسْوَاقِ الْمُسْلِمِينَ أَوْ مَسَاجِدِهِمْ فَأَمْسِكُوا بِالْأَنْصَالِ لَا تَجْرَحُوا بِهَا أَحَدًا) )
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مسلمانوں کے بازاروں یا ان کی مسجدوں سے تیروں سمیت گزرو تو ان کے پھلوں (تیز دھار حصے) سے پکڑا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے کسی کو زخمی کر بیٹھو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه عبد الرزاق: 1735،أخرج نحوه الطيالسي: 520، وأخرجه البخاري: 452، 7075، ومسلم: 2615، وابوداود: 2587، وابن ماجه: 3778 بلفظ: ((اذا مر احدكم بالنبل في مساجدنا او اسواقنا، فليمسك بيده عليمشاقصھا لايعقِر احدا۔))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19488، 19500، 19545 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19729»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1336
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ بِسُوقٍ أَوْ مَجْلِسٍ أَوْ مَسْجِدٍ وَمَعَهُ نَبْلٌ فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا فَلْيَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا) ) ثَلَاثًا، قَالَ أَبُو مُوسَى: فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى سَدَّدَ بِهَا بَعْضُنَا فِي وَجُوهِ بَعْضٍ
سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے ایک دوسری سند کے ساتھ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص بازار یا کسی مجلس یا کسی مسجد سے اس حالت میں گزرے کہ اس کے پاس تیر ہوں تو وہ ان کے پھلوں سے پکڑ لیا کرے۔ ابو موسی فرماتے ہیں: ہم پر ہمیشہ آزمائش آتی رہی یہاں تک کہ ہم میں سے بعض نے یہ تیر بعض کے چہروں میں سیدھے کردیے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2615، وانظر الحديث بالطرق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19577، 19754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19992»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2615
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرٍو أَسْمَعْتَ جَابِرًا يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ سِهَامٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا) ) ؟ فَقَالَ: نَعَمْ
سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے عمروبن دینارسے پوچھا کہ کیا آپ نے سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی مسجد سے تیر سمیت گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ان کے پھلوں سے پکڑ۔؟ تو عمر و کہنے لگے: جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 451، 7073، ومسلم: 2614، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14361»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 451
حدیث نمبر: 1338
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُوسَى ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ بَنَّةَ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الْمَجْلِسِ يَسُلُّونَ سَيْفًا بَيْنَهُمْ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ غَيْرَ مَغْمُودٍ، فَقَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ، أَوَلَمْ أَزْجُرْكُمْ عَنْ هَٰذَا؟ فَإِذَا سَلَلْتُمُ السَّيْفَ فَلْيَغْمِدْهُ الرَّجُلُ ثُمَّ لْيُعْطِهِ كَذَلِكَ) )
دوسری سند سے مروی ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کو سیّدنا بنّہ جہنی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں یا کسی مجلس میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو بغیر نیام کے تلوار سونت کر ایک دوسرے کو پکڑا رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسا کرتا ہے اللہ اس پر لعنت کرے، کیا میں نے تمہیں اس طرح کرنے سے منع نہیں کیا؟ جب تم تلوار نکالو توآدمی اسے نیام میں رکھے، پھر وہ اسی طرح آگے دے دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، روي عن ابن لھيعة عبد الله بن وھب۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 1190، وفي الاوسط: 2591، والبزار: 3335، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14742، 14980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14801»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اللہ تعالیٰ کو کتنا ناپسند ہے۔ عصر حاضر میں اس نقطے پر غور و فکر کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 1339
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَّ بِهِ كَمَا يُبَسُّ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ) ) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی مسجد میں ہوتا ہے تو شیطان اس سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جیسے آدمی اپنے جانور سے کوئی بہانہ بناتا ہے، جب وہ اس کے لیے ٹھہر جاتا ہے تو وہ اسے جھکا لیتا ہے یا لگام ڈال لیتا ہے۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تم یہ سب کچھ دیکھ رہے ہو، جسے جھکا لیا جاتا ہے تو تم اسے ایسے جھکا ہوا ہی دیکھتے ہو کہ وہ اللہ کا ذکر نہیں کرتا، اور جسے لگام ڈال لی جاتی ہے، تو وہ اپنا منہ کھول لیتا ہے اور اس طرح اللہ کا ذکر نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8352»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! کیا سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے! موجودہ زمانے کے لوگ اس حدیث کا سب سے بڑھ کر مصداق بنے ہوئے ہیں۔ فرضی نمازوں کے علاوہ تو مسجد میں آنا ہی درکنار، ان فرائض کی ادائیگی کے لیے مسجد میں آنے والوں کی کثیر تعداد مفقود ہو چکی ہے اور جو آتے ہیںوہ آنے میں تاخیر اور جانے میں تعجیل کرتے ہیں۔ اب پتہ چلا کہ ان بیچاروں کے سینوں میں شیطان گھس جاتا ہے اور ان کے سینوں سے تسکین غصب کر کے ان کو مسجد سے بھگا دیتا ہے۔ مانا کہ بعض لوگ مجبور ہوتے ہوں گے، لیکنیہ کلیہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مسجد میں نماز عشاء کی ادائیگی کے لیے نمازیوں کی کل تین صفیں بن گئیں، ابتدائے نماز کے وقت آدھی صف موجود تھی اور ڈیڑھ صف کے پاس تو نماز کے بعد مختصر سا درس سننے کا وقت بھی نہیں تھا کہ سلام کے بعد فورا انھوں نے مسجد سے نکلنا شروع کر دیا۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي