الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّكِ وَالتَّعْظِيمِ
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 1375
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالَا: لَمَّا نُزِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ يُلْقِي خَمِيصَتَهُ عَلَى وَجْهِهِ فَإِذَا اغْتَمَّ رَفَعْنَاهَا عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ: ( (لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) تَقُولُ عَائِشَةُ: يُحَذِّرُهُمْ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا
سیّدناعبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات کے قریب ہوئے تو آپ اپنے چہرے پر چادر ڈالتے، جس وقت آپ کو گُھٹن محسوس ہوتی تو ہم چادر اٹھا دیتے تھے،اس حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ یہود و نصاری پر لعنت کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (دراصل) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو ان جیسا کام کرنے سے ڈرا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1375]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 435، 3453، ومسلم: 531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1884)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1884»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 435
حدیث نمبر: 1376
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَتَا كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ (وَفِي رِوَايَةٍ تَذَاكَرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا فِي أَرْضِ الْحَبَشَةِ) فِيهَا تَصَاوِيرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَ، أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ ام حبیبہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا، جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اور ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں: لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کی بیماری میں ایک دوسرے سے باتیں کیں تو سیدہ ام سلمہ اور سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا، اسمیں تصویریں تھیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کا حال یہ رہا ہے کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر کے اس میں یہ تصویریں بنالیتے تھے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1376]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 427، 3873، ومسلم: 528، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24756»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 427
حدیث نمبر: 1377
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، قَالَتْ: فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ: ( (قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ چادر تھی، جس وقت آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اسے چہرے پر لے لیتے اور کبھی چہرے سے ہٹا دیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فعل کو اپنی امت پر حرام فرمارہے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْمَسَاجِدِ/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجه النسائي في الكبري: 7091 وأخرجه البخاري ومسلم عن ابن عباس و عائشة كما تقدم في355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26350)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26882»
وضاحت: فوائد: … تینوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کا ذکر ہے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیائے فانی سے رخصت ہونے والے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس بدکردار کا ذکر کر کے اپنی قبر کو بھی اس قسم کی تعظیم سے محفوظ کرنا چاہا۔ لعنت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جرم انتہائی سنگین اور کبیرہ گناہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے منع کیا: (۱) اہل کتاب کی مشابہت سے بچنا اور (۲) اس کا شرک خفی پر مشتمل ہونا، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آتا ہے، لیکننتیجہ مخلوق کی ممنوعہ تعظیم کی صورت میں نکلتا ہے، پھر معاملہ شرکِ جلی تک جا پہنچتا ہے۔ جیسا کہ اب مزاروں اور قبوں پر ہو رہا ہے۔ نیکو کار لوگوں کے مقبروں اور ان کے پاس نماز پڑھنے کا بھییہی حکم ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح