🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ النَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ قُبُورِ الْأَنْبِيَاءِ وَالصَّالِحِينَ مَسَاجِدَ لِلتَّبَرُّكِ وَالتَّعْظِيمِ
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1377
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ حِينَ اشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، قَالَتْ: فَهُوَ يَضَعُهَا مَرَّةً عَلَى وَجْهِهِ وَمَرَّةً يَكْشِفُهَا عَنْهُ وَيَقُولُ: ( (قَاتَلَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ) ) يُحَرِّمُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ چادر تھی، جس وقت آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی اسے چہرے پر لے لیتے اور کبھی چہرے سے ہٹا دیتے اور فرماتے: اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس فعل کو اپنی امت پر حرام فرمارہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب المساجد/حدیث: 1377]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن أخرجه النسائي في الكبري: 7091 وأخرجه البخاري ومسلم عن ابن عباس و عائشة كما تقدم في355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26350)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26882»
وضاحت: فوائد: … تینوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کا ذکر ہے، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیائے فانی سے رخصت ہونے والے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس بدکردار کا ذکر کر کے اپنی قبر کو بھی اس قسم کی تعظیم سے محفوظ کرنا چاہا۔ لعنت کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جرم انتہائی سنگین اور کبیرہ گناہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو وجوہات کی بنا پر ایسا کرنے سے منع کیا: (۱) اہل کتاب کی مشابہت سے بچنا اور (۲) اس کا شرک خفی پر مشتمل ہونا، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے آتا ہے، لیکننتیجہ مخلوق کی ممنوعہ تعظیم کی صورت میں نکلتا ہے، پھر معاملہ شرکِ جلی تک جا پہنچتا ہے۔ جیسا کہ اب مزاروں اور قبوں پر ہو رہا ہے۔ نیکو کار لوگوں کے مقبروں اور ان کے پاس نماز پڑھنے کا بھییہی حکم ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1377 in Urdu