الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ قِرَاءَةِ السُّورَةِ بَعْدَ الْفَاتِحَةِ فِي الْأُولَيَيْنِ وَهَلْ تُسَنُّ قِرَاءَتُهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ أَمْ لَا
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں¤اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1598
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا فَيَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَتَيْنِ وَيُسْمِعُنَا الْآيَةَ أَحْيَانًا (زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ بِأُمِّ الْكِتَابِ) وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى مِنَ الظُّهْرِ وَيُقَصِّرُ فِي الثَّانِيَةِ وَكَذَا فِي الصُّبْحِ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نماز پڑھاتے اور ظہر و عصر میں پہلی دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ اور مزید دو سورتوں کی تلاوت کرتے اور بسا اوقات ہمیں کوئی آیت بھی سنا دیتے تھے، ایک روایت میں ہے: دوسری دو رکعتوں میں سورۂ فاتحہ پڑھتے اور ظہر کی پہلی رکعت میں (قراءت کو) لمبا کرتے اور دوسری میں مختصر کرتے اور نماز فجر میں بھی ایسے ہی کرتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19418 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19638»
وضاحت: فوائد: … اِس اور دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض و نفل کی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرنا درست ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر و عصر کی دوسری دو رکعت میں صرف فاتحہ شریف کی تلاوت پر بھی اکتفا کر لیتے تھے اور بحیثیت ِ رکعت پہلی اور آخری رکعات میں کوئی فرق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 451
حدیث نمبر: 1599
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً وَكَانَ يَقُومُ فِي الْعَصْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوْلَيَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ قِرَاءَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ آيَةً، وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ قَدْرَ نِصْفِ ذَلِكَ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں تیس تیس آیتوں کے اور دوسری دو رکعتوں میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر تلاوت کرتے اور نماز عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر رکعت میں پندرہ پندرہ آیتوں کے بقدر اور دوسری دو رکعتوں میں اس سے نصف کے بقدر تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 452، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11802 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11824»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی تیسری اور چوتھی رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ کے علاوہ مزید تلاوت کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 452
حدیث نمبر: 1600
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَمَرَنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سورۂ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا اور مزید جو آسان لگے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 818، والترمذي: 238، وابن ماجه: 839، والبخاري في القراء ة خلف الامام: 16، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11435»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 818
حدیث نمبر: 1601
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَا أَهْلُ الْكُوفَةِ سَعْدًا (يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ) إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: لَا يُحْسِنُ يُصَلِّي، قَالَ: فَسَأَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس شکایت کی،انھوں نے کہا:یہ اچھے انداز میں نماز نہیں پڑھاتا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: میں تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی طرح کی نماز پڑھاتا ہوں، پہلی دو رکعتوں میں لمبا قیام کرتا ہو اور دوسری دو میں مختصر کرتا ہوں۔سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: أبو اسحاق! تیرے بارے میرایہی خیال تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 755، 758، ومسلم: 453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1518 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1518»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 755
حدیث نمبر: 1602
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِسَعْدٍ: شَكَاكَ النَّاسُ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَأُمُدُّ مِنَ الْأُوْلَيَيْنِ وَأَحْذِفُ مِنَ الْأُخْرَيَيْنِ وَلَا آلُو مَا اقْتَدَيْتُ بِهِ مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ أَوْ ظَنَنْتُ بِكَ
۔ (دوسری سند)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: لوگوں نے ہر چیز کے متعلق تیری شکایت کی ہے،حتی کہ نماز کے متعلق بھی، (حقیقت کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں تو پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتاہوں اور دوسری دو کو مختصر اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی اقتدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا، یہ سن کر انھوں نے کہا: تیرے بارے میں میرایہی گمان تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 770، ومسلم: 453 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1510»
وضاحت: فوائد: … عوام الناس میں بڑی قوت کے ساتھ یہ نظریہ پایا جاتا ہے کہ فرض نمازکی پہلی اوردوسری رکعت میں فاتحہ شریف کے بعد مزید تلاوت کرنا ضروری ہے اورتیسری اورچوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ پر اکتفاکرنا ضروری ہے۔ اگرچہ یہ عمل تودرست ہے، لیکنیہ نظریہ درست نہیں ہے،حقیقت ِ حال یہ ہے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد رکوع کیا جا سکتاہے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد مزید تلاوت بھی کی جا سکتی ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 770