🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ قِرَاءَةِ سُورَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ فِي رَكْعَةٍ، وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُورَةٍ وَجَوَازِ تَكَرُّرِ السُّورَةِ أَوِ الْآيَاتِ فِي رَكْعَةٍ
ایک رکعت میں دو یا زائد سورتیںیا ایک سورت کابعض حصہ تلاوت کرنے¤اور ایک سورت یا بعض آیات کو تکرارکے ساتھ تلاوت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1603
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي رَكْعَةٍ؟ قَالَتْ: الْمُفَصَّلَ
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں زیادہ سورتوں کو جمع کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: مفصل (سورتوں کو جمع کر لیتے تھے)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 956، وابن خزيمة: 539، واسحاق بن راھويه: 1301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25385، 25687 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26206»
وضاحت: فوائد: … مُفَصَّل سورتوں کا آغاز سورۂ حجرات یا سورۂ ق سے ہوتا ہے اور قرآن کے آخر تک جاری رہتا ہے۔
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرضی نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 956
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ فِي الْفَرِيضَةِ
نافع کہتے ہیں: بسا اوقات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرض نماز میں ہماری امامت کرواتے ہوئے دو یا زائد سورتیں جمع کر لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 348، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4610) ويشھد له ما يأتي من حديث ابن مسعود رضي الله عنه۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4610»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الطحاوي: 1/ 348
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
عَنْ نَهِيكِ بْنِ سِنَانٍ السَّلَمِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: هَذَا مِثْلَ هَذِهِ الشِّعْرِ أَوْ نَثْرًا مِثْلَ نَثْرِ الدَّقَلِ، إِنَّمَا فُصِّلَ لِتُفَصِّلُوا، لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ عِشْرِينَ سُورَةً، الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ عَلَى تَأْلِيفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كُلَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، وَذَكَرَ الدُّخَانَ وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ فِي رَكْعَةٍ
نہیک بن سنان سلمی کہتے ہیں: میں سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رات کو ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: شعروں کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ یقینا میں اُن ملتی جلتی بیس سورتوں کو جانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن کو ملا کر پڑھتے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف کے مطابق سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں، پھر سورۂ دخان اور سورۂ {عَمَّ یَتَسَاءَ لُونَ} کا ایک رکعت میں پڑھنے کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 4996، ومسلم: 822، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3607، 3958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3958»
وضاحت: فوائد: … قرآن کو تو اس لیے مفصل بیان کیا گیا کہ تم بھی اس کے الفاظ کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی و مفاہیم کو انتہائی وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور اس کے احکام و مسائل کو بھی ٹھوس بنیادوں پر استوار کیا گیا، اس لیے قاری کو بھی چاہیے کہ اس کلام کو ٹھہر ٹھہر کر اور سوچ سمجھ کر تلاوت کرے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البخاري: 4996
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ وَعَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَقَالَ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: بَلْ هَذَا كَهَذِهِ الشِّعْرِ أَوْ كَنَثْرِ الدَّقَلِ، لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفْعَلْ كَمَا فَعَلْتَ، كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ الرَّحْمَنَ وَالنَّجْمَ فِي رَكْعَةٍ، قَالَ فَذَكَرَ أَبُو إِسْحَاقَ عَشْرَ رَكَعَاتٍ بِعِشْرِينَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) آخِرُهُنَّ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَالدُّخَانُ
۔ (دوسری سند)ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کی ہے، انہوں نے کہا: تو نے تو پھرشعر کو پڑھنے کی طرح یا ردی کھجوروں کو بکھیرنے کی طرح تیزی تیزی سے پڑھا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح تلاوت نہیں کرتے تھے، جیسے تونے کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ملتی جلتی سورتوں (میں سے دو دو) کو ایک رکعت میں پڑھتے تھے، مثلا سورۂ رحمن اور سورۂ نجم ایک رکعت میں۔ پھر ابو اسحاق نے بیس سورتوں کے ساتھ دس رکعتوں کا ذکر کیا،یہ ترتیب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف کے مطابق تھی، آخری سورتیں سورۂ تکویر اور سورۂ دخان تھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1396، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3968 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3968»
وضاحت: فوائد: … ملتی جلتی سورتوں سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کا موضوع وعظ و نصیحت اور قصہ و حکمت کے اعتبار سے ایک بنتا ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اگر کوئی آدمی ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتا ہے تو وہ ایک رکعت میں مفصل سورتوں کی تلاوت کر سکتا ہے، کیونکہیہ مقدار چار پاروں سے کچھ زیادہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک رکعت میں اس مقدار سے زیادہ تلاوت کرنا بھی ثابت ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک رکعت میں سورۂ بقرہ، سورۂ نساء اور سورۂ آل عمران کی تلاوت کی،یہ مقدار پانچ پاروںسے زیادہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مقصد یہہے کہ بعینہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا کی جائے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1396
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيْهِ قَبْلَ الْفَجْرِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَالْآيَتَيْنِ مِنْ خَاتِمَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُوْلَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ بِفَاتِحَةِ الْقُرْآنِ وَبِالْآيَةِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ {قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے والی سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کے آخر سے دو آیتیں اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ آل عمران کی اس آیت {قُلْ یأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ … … } کی تلاوت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن ابن عباس، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2386 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2386»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن فاتحہ شریف کے بعد ایک آیت پڑھنا درست ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر فجرکی دو سنتوں کی پہلی رکعت میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر ۱۳۶ {قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰی اِبْرَاہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْل وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَا اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗمُسْلِمُوْنَ۔} اوردوسری رکعت میں سورۂ آل عمران کی آیت نمبر ۵۲ {قُلْ یٰأَھْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَائٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَانُشْرِکَ بِہٖشَیْئًا وَّلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْھَدُوْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ} پڑھتے تھے۔ (مسند احمد: ۲۰۳۸، ۲۰۴۵، مسلم ۷۲۷) مسند احمد میں اور صحیح مسلم کی ایک روایت میں دوسری رکعت میں اس آیت کا ذکر ہے: {فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ آمَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ}

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن ابن عباس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ؟) ) قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ فِي الصَّلَاةِ خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ گھر لوٹے تو تین بڑی بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں پائے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین آیتیں جن کو وہ نماز میں تلاوت کر لے، اس کے لیے ان (تین اونٹنیوں) سے بہتر ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9141»
وضاحت: فوائد: … بغیر کسی عذر کے نماز میں طوالت سے جی کترانے والوں یا لمبے قیام کو پسند نہ کرنے والوں کے لیے عبرت کا مقام ہے کہ وہ کس قدر محرومی کا شکار ہیں، جبکہ ایک ایک آیت کا اتنا بڑا اجر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 802
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1609
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ بِهَا {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَٰذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ بِهَا؟ قَالَ: ( (إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِيهَا، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات نماز پڑھی اور صبح تک ایک ہی آیت کی تلاوت کے ساتھ رکوع وسجود کرتے رہے، (وہ آیت یہ ہے:) {إِنْ تُعَذِّ بْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکَیْمُ} جب صبح ہوئی تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صبح تک ایک ہی آیت پڑھتے رہے اور اسی کے ساتھ رکوع و سجود کرتے رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے لیے اللہ تعالیٰ سے سفارش کرنے کا سوال کیا، جو اس نے مجھے عطا کر دیا اور اگر اللہ نے چاہا تو وہ ہر اس شخص کو حاصل ہو گی جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1609]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1350، والنسائي: 2/ 177 بلفظ متقارب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21654»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی ہر حدیث اپنے مفہوم میں واضح ہے، آخری حدیث میں دی گئی رخصت حیران کن ہے کہ ہر رکعت میں ایک آیت کو بار بار پڑھا جا سکتا ہے، ظاہر ہے کہ ایک سورت کی بار بار تلاوت کرنے کی گنجائش بھی مل رہی ہے، جن لوگوں کو صرف قرآن مجید کی آخری مختصر سورتیںیاد ہوں، وہ اس حدیث کی روشنی میں ایک ہی سوررت یا آیت کی بار بار تلاوت کر کے لمبی قیام کییا ایک رکعت میں زیادہ آیات کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1350
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں