🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ
تکبیرات الانتقال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1663
عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: فَذَكَرَ التَّكْبِيرَ كُلَّمَا وَضَعَ رَأْسَهُ وَكُلَّمَا رَفَعَهُ وَذَكَرَ السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَنْ يَمِينِهِ السَّلامُ عَلَيْكُمْ عَنْ يَسَارِهِ
واسع بن حبان کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیں کہ وہ کیسی تھی؟ انہوں نے (جواب میں) یہ چیز بھی ذکر کی کہ آپ جب بھی اپنا سر جھکاتے اور اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر انھوں نے دائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمْۃُ اللّٰہ ِاور بائیں طرف اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کا ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1663]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه النسائي: 3/ 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5402»
وضاحت: فوائد: … رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہنامسنونہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي۔ أخرجه النسائي: 3/ 63
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1664
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يُتِمُّونَ التَّكْبِيرَ فَيَكَبِّرُونَ إِذَا سَجَدُوا وَإِذَا رَفَعُوا أَوْ خَفَضُوا كَبَّرُوا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما جب سجدہ کرتے اور جب اٹھتے اور جھکتے تھے تو تکبیر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1664]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابو يعلي: 4281، والطحاوي: 1/ 221، والبيھقي: 1/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12259، 12349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12374»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابو يعلي: 4281
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1665
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَمَعَ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: هَلُمَّ أُصَلِّي صَلَاةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ، قَالَ فَدَعَا بِجَفْنَةٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَأُذُنَيْهِ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَصَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے کہا: آؤ میں تمہیں اللہ کے نبی کی نماز پڑھاتا ہوں، وہ اشعری قبیلے کے آدمی تھے، پھر انھوں نے ایک ٹب منگوایا، اپنے ہاتھوں کو تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور تین دفعہ چہرہ دھویا، پھر تین بار دونوں بازو دھوئے اور اس کے بعد اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا اور پھر اپنے پاؤں دھوئے، پھر نماز ِ ظہر پڑھائی، اس میں سورۂ فاتحہ پڑھی اور بائیس دفعہ اللہ اکبر کہا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1665]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 417، والطبراني في الكبير: 3412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23281»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل شھر بن حوشب۔ أخرجه ابن ماجه: 417
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1666
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، وَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اور انہوں نے اپنے سر اور پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کیا، پھر ان کو نماز پڑھائی اور بائیس تکبیریں کہیں، جب وہ سجدہ کرتے اور سجدے سے سر اٹھاتے تو اللہ اکبر کہتے، انھوں نے دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی اور (اپنی آواز کو ہلکا بلند کرکے) اپنے قریب والوں کو سنائی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1666]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23286»
وضاحت: فوائد: … چار رکعت نماز میں کل بائیس تکبیرات کہی جاتی ہیں، ہر رکعت کی پانچ اور تکبیر تحریمہ اور تیسری رکعت والی تکبیر۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1667
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُسَوِّي بَيْنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فِي الْقِرَاءَةِ وَالْقِيَامِ، وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى هِيَ أَطْوَلُهُنَّ لِكَيْ يَثُوبَ النَّاسُ، وَيَجْعَلُ الرِّجَالَ قُدَّامَ الْغِلْمَانِ، وَالْغِلْمَانَ خَلْفَهُمْ وَالنِّسَاءَ خَلْفَ الْغِلْمَانِ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا نَهَضَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ إِذَا كَانَ جَالِسًا
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چاروں رکعتوں کی قراءت اور قیام برابر برابر ہوتے تھے، البتہ پہلی رکعت لمبی کرتے تھے تاکہ لوگ پہنچ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مردوں کو بچوں کے آگے، بچوں کو ان کے پیچھے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے کھڑا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سجدہ کرتے اور اس سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، اسی طرح جب دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے) بیٹھ کر (تیسری رکعت) کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1667]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 3436، وأخرجه ابوداود بذكر صف الرجال والغلمان فقط: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22896، 22911 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23299»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکعات کی طوالت کی مقدار مذکورہ بالا کمیت سے مختلف بھی رہی ہے، مثلا ظہر کی پہلی دو رکعتیں تیس تیس آیتوں کے برابر اور آخری دو رکعتیں پندرہ پندرہ آیتوں کے برابر ہوتی تھیں، اسی طرح نماز عصر کی پہلی دو رکعتیں ظہر کی آخری دو رکعتوں کے برابر اور اس کی آخری دو رکعتیں اس سے بھی نصف کے برابر ہوتی تھیں، جہری نمازوں میں بھییہ فرق نظر آتا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 3436
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1668
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ بِالْبَطْحَاءِ خَلْفَ شَيْخٍ أَحْمَقَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً، يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْكَ صَلَاةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1668]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1886»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 787
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1669
عَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ خَفْضٍ وَرَفْعٍ وَقِيَامٍ وَقُعُودٍ، وَيُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ، أَوْ خَدِّهِ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑا ہونے اوربیٹھنے پر تکبیر کہتے اور دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت (چہرۂ مبارک کو اتنا پھیرتے کہ) رخساروں کی سفیدی نظر آ جاتی، پھر میں نے سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ایسے ہی کرتے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه النسائي: 2/ 205، والترمذي: 253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3660»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1670
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُصَلِّي بِنَا فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ وَحِينَ يَرْكَعُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ مِنَ السُّجُودِ وَإِذَا جَلَسَ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ، وَيُكَبِّرُ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، فَإِذَا سَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي صَلَاتَهُ، مَا زَالَتْ هَٰذِهِ صَلَاتُهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تھے، جب وہ کھڑے ہوتے، جب رکوع کرتے، جب رکوع سے اٹھنے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے، جب سجدے سے سر اٹھانے کے بعد دوبارہ سجدہ کرتے، جب بیٹھتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے، دوسری دو رکعتوں میں بھی اسی طرح تکبیریں کہتے، جب سلام پھیرتے تو کہتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز میں تم سب کی بہ نسبت زیادہ مشابہت رکھنے والا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی یہی کیفیت رہی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے جدا ہو گئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 803، وأخرج بنحوه مسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7657، 7658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7644»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 803
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1671
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ
ابو صالح کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر جھکنے اور اٹھنے میں تکبیر کہتے تھے اور پھر بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 785، و مسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7220، 9402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9391»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 785
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1672
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے اٹھتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے، جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے، پھر کھڑے کھڑے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے،پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے، جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرے) سجدے کے لیے گرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر آپ ساری نماز میں اسی طرح کا (تکبیرات کہنے کا) عمل کرتے، یہاں تک کہ اسے پورا کر لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی اللہ اکبر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 789، ومسلم: 392، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9850»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 789
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں