الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ تَكْبِيرَاتِ الِانْتِقَالِ
تکبیرات الانتقال کا بیان
حدیث نمبر: 1673
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: اشْتَكَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ غَابَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَحِينَ رَكَعَ وَحِينَ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَحِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا صَلَّى، قِيلَ لَهُ: قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ عَلَى صَلَاتِكَ، فَخَرَجَ فَقَامَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، وَاللَّهِ مَا أُبَالِي، اخْتَلَفَتْ صَلَاتُكُمْ أَوْ لَمْ تَخْتَلِفْ، هَٰكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي
سعید بن حارث کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے تھے یا کہیں گئے ہوئے تھے، بہرحال ہمیں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی، انھوں نے نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، رکوع سے اٹھنے کے لیے سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہنے کے بعد، سجدہ سے سر اٹھاتے وقت، سجدہ کرتے وقت اور دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہوتے وقت اللہ اکبر کہا، حتی کہ انھوں نے اسی طریقے پر نماز پوری کی، جب انھوں نے نماز پڑھ لی تو کسی نے ان سے کہا: لوگوں نے آپ کی نماز پر اعتراض کیا ہے، (یہ سن کر) وہ نکل کر منبر کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ تمہاری نماز مختلف ہے یا نہیں ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے ہی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11157»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 825
حدیث نمبر: 1674
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ ذَكَّرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً كُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِمَّا نَسِينَاهَا وَإِمَّا تَرَكْنَاهَا عَمَدًا يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ وَكُلَّمَا سَجَدَ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے تو ہمیں وہ نماز یاد کرا دی ہے، جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے، یا تو ہم اسے بھول گئے ہیں یا جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب رکوع کرتے،(رکوع سے) اٹھتے اور سجدہ کرتے تو اللہ اکبر کہتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1674]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 535، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 221، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19723»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه البزار: 535
حدیث نمبر: 1675
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَاةً ذَكَّرَنِي صَلَاةً صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْخَلِيفَتَيْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُوَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا سَجَدَ وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ مَنْ أَوَّلُ مَنْ تَرَكَهُ؟ قَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ كَبُرَ وَضَعُفَ صَوْتُهُ تَرَكَهُ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ایک نماز پڑھی، انہوں نے تو مجھے وہ نماز یاد دلا دی، جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دو خلیفوں کے ساتھ پڑھا تھا۔ مطرف کہتے ہیں: (یہ سن کر) میں چلا گیا اور ان کے ساتھ نماز پڑھی، (میں نے دیکھا کہ) جب وہ سجدہ کرتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر میں نے پوچھا: اے ابو نجید! سب سے پہلے کس نے اس طریقے کو ترک کیا؟ انھوں نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بوڑھے ہوئے اور ان کی آواز کمزور ہو گئی تو انھوں نے اس کو ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581، وأخرج البخاري: 826، 786 ومسلم: 393 بلفظ متقارب منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19881، 19952 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20122»
وضاحت: فوائد: … وَکُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوع (اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو تکبیر کہتے)۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ درست الفاظ مِنَ السُّجُوْد کے ہیں، سیاق و سباق کا یہی تقاضا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے وقت سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تھے۔ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا عذر تھا، پھر بھی کئی اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مخفی انداز میں کہتے تھے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان تکبیرات کو ترک کرنا جائز سمجھتے ہوں، بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے ان تکبیرات کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یا زیاد نے ترک کیا تھا، ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں اور زیاد نے ان کی اقتدا میں ترک کر دی ہوں۔ بہرحال مسئلہ اپنی جگہ پر واضح ہے اور متواتراحادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان تکبیرات والا عمل ثابت ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابن خزيمة: 581
حدیث نمبر: 1676
عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِمْرَانَ رَجُلٌ كَانَ بِوَاسِطٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ لَا يُتِمُّ التَّكْبِيرَ، يَعْنِي إِذَا خَفَضَ وَإِذَا رَفَعَ
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی،آپ تکبیر نہیں کہتے تھے، یعنی جب جھکتے اور اٹھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1676]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف، أعله الأئمة لنكارته، فقد تفرد به الحسن بن عمران وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه ابوداود: 837، والطيالسي: 1287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15426»
وضاحت: فوائد: … امام ابوداود نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع سے سر اٹھاتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو اللہ اکبر نہیں کہتے تھے اور اسی طرح جب سجدوں سے کھڑے ہوتے تو تکبیر نہیں کہتے تھے۔ امام بیہقی نے کہا: ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی ہو، لیکن اس حدیث کے راوی نے نہ سنی ہو، اور اس امر کا امکان بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواز کے لیے تکبیر نہ کہی ہو۔ (انظر: ۱۵۳۵۲) بہرحال یہ حدیث ضعیف ہے اور کئی احادیث ِ صحیحہ کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تکبیرات الانتقال منقول ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث ضعيف