الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. بَابُ هَيْئَاتِ السُّجُودِ وَكَيْفَ الْهَوِيِّ إِلَيْهِ
سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 1726
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ رُؤِيَ أَوْ رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1726]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12758 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12788»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1727
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي أَقْرَمَ بِالْقَاعِ (وَفِي رِوَايَةٍ بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ) قَالَ: فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ فَقَالَ لِي أَبِي: أَيْ بُنَيَّ! كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ وَأُسَائِلَهُمْ، قَالَ: فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عُفْرَتَيْ إِبْطَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا سَجَدَ
عبد اللہ بن اقرم کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا، ہمارے پاس سے ایک قافلہ گزرا، پھر انہوں نے راستہ کی ایک طرف اونٹ بٹھا دیئے، میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اپنے جانوروں میں ہی رہ، میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے سوال جواب کرتا ہوں، سو وہ چلے گئے اور میں بھی ان کے پیچھے نکل پڑا، وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیااور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی غیر خالص سفیدی کو دیکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 881، والترمذي: 274، والنسائي: 2/ 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16516»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 881
حدیث نمبر: 1728
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ وَصَفَ السُّجُودَ قَالَ: فَبَسَطَ كَفَّيْهِ وَرَفَعَ عَجِيزَتَهُ وَخَوَّى وَقَالَ هَٰكَذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ابو اسحاق کہتے ہیں: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے سجدہ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے (سجدہ کیا اور) اپنی ہتھیلیوں کو بچھایا، پچھلے حصے کو اٹھایا اور اپنے پیٹ کو بھی زمین سے بلند رکھا اور پھر کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح سجدہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1728]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 896، والنسائي: 2/ 212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18905»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 1729
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَى حَتَّى يُرَى مَنْ خَلْفَهُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ
زوجہ ٔ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اتنی کشادگی کرتے کہ جو آپ کے پیچھے ہوتا وہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1729]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 497، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27368»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 497
حدیث نمبر: 1730
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ) )
سیدنا براء بن عازب ر ضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو سجدہ کرے تو اپنی ہتھیلیوں کونیچے رکھ دے اورکہنیوں کو اٹھا لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1730]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18800»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 494
حدیث نمبر: 1731
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ عَلَى أَنْفِهِ مَعَ جَبْهَتِهِ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی پیشانی سمیت ناک پر سجدہ کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19062»
الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19062
حدیث نمبر: 1732
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ أَنْفَهُ عَلَى الْأَرْضِ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب آپ سجدہ کرتے تو اپنی ناک زمین پر لگاتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 262، والطبراني في الكبير: 22/ 66، وله شواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19045»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 262
حدیث نمبر: 1733
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ بَيْنَ كَفَّيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ) وَيَدَاهُ قَرِيبَتَانِ مِنْ أُذُنَيْهِ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھاآپ اپنی ہتھیلیوں کے درمیان سجدہ کرتے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے ہاتھ آپ کے کانوں کے قریب ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شبية: 1/ 260، والبيھقي: 2/ 112،والطبراني في الكبير: 22/ 75، 93، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18844، 18845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19050، 19051»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شبية: 1/ 260
حدیث نمبر: 1734
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ( (وَإِذَا سَجَدْتَ فَأَمْكِنْ جَبْهَتَكَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى تَجِدَ حَجْمَ الْأَرْضِ) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: جب تو سجدہ کرے توزمین پر اپنے ماتھے کو اس طرح جگہ دے حتی کہ تو زمین کا حجم محسوس کرے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447، والترمذي: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2604»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۶۸۱)میں اِس حدیث کے آخری جملے کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔ ان تمام احادیث کا تعلق سجدہ کی کیفیت اور ہیئت کے ساتھ ہے، اِن اور دیگر احادیث کا خلاصہ یہ ہے، مسند احمد کا حوالہ نہیں دیا گیا:
(۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
(۱) سجدے میں گرتے وقت گھٹنوں سے پہلے ہاتھ زمین پر رکھیں۔ (ابو داود: ۸۴۰، نسائی: ۱۰۹۰) اس عنوان سجدے کی حالتیں اور اس کے لیے جھکنے کی کیفیت کا بیان میں اس مسئلہ کی وضاحت پیش کی گئی ہے۔
(۲) سات اعضا(ناک سمیت پیشانی، دونوں ہاتھوں، دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں) پر سجدہ کریں۔ (صحیح بخاری: ۸۱۲، صحیح مسلم: ۴۹۰)
(۳) دونوں ہاتھ پہلوؤں سے دور رکھیں (ابوداود: ۷۳۴، ترمذی: ۲۶۰، ابن ماجہ: ۸۶۳) کہنیاںبھی زمین سے بلند ہوں (صحیح مسلم: ۴۹۴) اور سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں، پیٹ رانوں سے اور رانیں پنڈلیوں سے جدا ہوں اور دونوں رانیں بھی ایک دوسرے سے الگ الگ رکھی جائیں۔ (ابوداود: ۷۳۰۔ ۷۳۴، ترمذی:۳۰۴)
(۴) پاؤں کی ایڑیاں ملی ہوں (مستدرک حاکم: ۱/ ۲۲۸، صحیح ابن خزیمہ: ۶۵۴) پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ ہوں اور پاؤں کھڑے ہوں۔ (صحیح بخاری: ۸۲۸)
(۵) ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملی ہوں اور قبلہ رخ ہوں۔ (حاکم: ۱/ ۲۲۷، بیہقی: ۲/ ۱۱۲)
(۶) ہاتھوں کو کندھوں (ابوداود:۸۵۸، ترمذی:۲۵۵، ابن ماجہ:۸۵۸) یا کانوں کے برابررکھیں۔ (نسائی: ۱۱۰۳)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 447