الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ أَعْضَاءِ السُّجُودِ وَالنَّهْيِ عَنْ كَفِّ الشَّعْرِ وَالثَّوْبِ
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1735
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا) )
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیاہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں اور بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 815، 816، ومسلم: 490، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1927، 2584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2584»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 815
حدیث نمبر: 1736
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ وَثِيَابَهُ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اس سے منع کیا گیا کہ آپ اپنے بال اور کپڑے لپیٹیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1736]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1927»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1927
حدیث نمبر: 1737
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْأَصَابِعِ وَلَا أَكُفَّ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ) )
۔ (تیسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا کہ میں ان سات اعضا پر سجدہ کروں: پیشانی، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناک کی طرف اشارہ کیا،دو ہاتھ، دو گھٹنے اور (دونوں پاؤں کی) انگلیوں کے کنارے اور اس بات کا بھی حکم دیا گیا کہ میں کپڑوں اور بالوں کو نہ لپیٹوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1737]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2777»
وضاحت: فوائد: … بالوں کو نہ لپیٹنا، اس سے مراد یہ ہے کہ اگر بال لمبے ہیں تو ان کوپگڑی کے نیچے نہ دبایا جائے اور نہ پیچھے سے باندھا جائے، اسی طرح نماز میں آستین وغیرہ کو نہ چڑھایا جائے اور اس طرح بلاضرورت کپڑے کو لپیٹنے سے باز رہا جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2777
حدیث نمبر: 1738
عَنِ الْعَبَّاسِ (بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا سَجَدَ الرَّجُلُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ أَرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ) )
سیدنا عباس بن عبد المطلب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی سجدہ کرتا ہے تواس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: چہرہ، دونوں ہتھیلیاں،دونوں گھٹنے اوردونوں پاؤں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1738]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 491، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1780 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1780»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 491
حدیث نمبر: 1739
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَمِّهِ قَالَ: كَانَتْ لِي جُمَّةٌ كُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ رَفَعْتُهَا، فَرَآنِي أَبُو حَسَنِ الْمَازِنِيُّ فَقَالَ: تَرْفَعُهَا لَا يُصِيبُهَا التُّرَابُ؟ وَاللَّهِ! لَأَحْلِقَنَّهَا فَحَلَقَهَا
عمر بن یحییٰ اپنے باپ یا چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میرے کندھوں تک لمبے بال تھے، اس لیے جب میں سجدہ کرتا تو انہیں اٹھا لیتا تھا، ابو حسن مازنی نے مجھے ایسے کرتا دیکھ کرکہا: تو ان کو اٹھا لیتا ہے تاکہ انہیں مٹی نہ لگے؟ اللہ کی قسم! میں انہیں ضرور مونڈ دوں گا پھر انہوں نے ان بالوں کو مونڈ دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1739]
تخریج الحدیث: «ھذا الأثر ضعيف، للشك بين والد عمرو بن يحييٰ أو عمه، ولم يتبين لنا من ھو۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16833»
وضاحت: فوائد: … ابو حسن مازنی، عمرو بن یحییٰ کا دادا تھا، اس نے اپنے پوتے کو ایک سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اور اس کی تربیت کرنے کے لیے اس کا سر منڈوا دیا تھا، آج بھی بڑوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
ھذا الأثر ضعيف