🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

40. بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِيدٌ الْمَعْنَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ وَعُصَيَّةُ وَبَنُو لِحْيَانَ فَزَعَمُوا أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا فَاسْتَمَدُّوهُ عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ بِسَبْعِينَ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ أَنَسٌ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ فِي زَمَانِهِمُ الْقُرَّاءَ، كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ، فَانْطَلَقُوا بِهِمْ حَتَّى إِذَا أَتَوْا بِئْرَ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ، فَقَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَدْعُو عَلَى هَٰذِهِ الْأَحْيَاءِ رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ وَبَنِي لِحْيَانَ قَالَ قَتَادَةَ وَحَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّهُمْ قَرَأُوا بِهِ قُرْآنًا وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ إِنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا، ثُمَّ رُفِعَ ذَلِكَ بَعْدُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ أَوْ رُفِعَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رعل، ذکوان، عصیہ اوربنو لحیان قبیلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ باور کرایا کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے خلاف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد مانگی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ستر آدمیوں کے ساتھ ان کی مدد کی، ہم اس زمانہ میں ان کو قراء کا نام دیتے تھے، کیونکہ یہ د ن کو لکڑیاں جمع کرتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، وہ قبیلوں والے ان کو لے کر چلے گئے، جب وہ بئرِ معونہ کے پاس پہنچے تو انھوں نے دھوکہ کیا اور ان (ستر صحابہ) کو قتل کردیا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں ایک مہینہ قنوت کی، جس میں آپ ان قبائل رعل، ذکوان، عصیہ، اور بنولحیان پر بد دعا کرتے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے اس واقعہ کے بارے میں قرآن پڑھا، ابن جعفر کی روایت کے مطابق وہ یہ آیت تھی: {بَلِّغُوْا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا } یعنی: ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے ربّ کو جا ملے ہیں، پس وہ خود بھی ہم سے راضی ہو گیا ہے اور ہم کو بھی راضی کر دیا ہے پھر یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3064، 4088، 4090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12087»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3064
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَرِيَّةٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، كَانُوا يُسَمُّونَ الْقُرَّاءَ، قَالَ سُفْيَانُ نَزَلَ فِيهِمْ: بَلِّغُوا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا، قِيلَ لِسُفْيَانَ: فِي مَنْ نَزَلَتْ؟ قَالَ: فِي أَهْلِ بِئْرِ مَعُونَةَ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی دستے پر اتنا غم محسوس نہیں کیا جتنا ان لوگوں پر محسوس کیا، ان کو قراء کہا جاتا تھا،سفیان کہتے ہیں: ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: {بَلِّغُوْا قَوْمَنَا عَنَّا أَنَّا قَدْ رَضِیْنَا وَرَضِیَ عَنَّا} یعنی: ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم (اپنے رب سے) راضی ہو گئے ہیں اور وہ ہم سے راضی ہو گیا ہے۔ کسی نے امام سفیان سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ انھوں نے کہا: بئر معونہ والوں کے بارے میں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 677، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12111»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 677
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1758
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ، وَقَالَ: ( (عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد ایک مہینہ تک دعائے قنوت کی، اس میں آپ رعل اور ذکوان قبیلوں پر بد دعا کرتے تھے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1003، 4094، ومسلم: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12176»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1003
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو بَعْدَ الرُّكُوعِ عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مہینہ تک رکوع کے بعد دعائے قنوت کی، اس میں آپ عرب قبائل میں سے ایک قبیلہ پر بددعا کرتے تھے، پھر اسے ترک کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4089، ومسلم: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13788»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4089
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: ( (رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ) ) فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا …) ) دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر میں جب رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ یہ آخری رکعت کی بات تھی، پھر یہ بد دعا کرنے لگے: اے اللہ! تو فلاں پر لعنت کر، …۔ منافق لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: (اے پیغمبر!) آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4069، 4559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6349»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد: ۵۶۷۴ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو اور صفوان بن امیہ کا نام لے کر ان پر لعنت کی ہے۔ امام بخاری (۴۰۷۰) نے اس کو مرسلاً ذکر کیا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 4069
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ (وَفِي رِوَايَةٍ الْفَجْرِ) قَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ (وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْجِ الْوَلِيدَ) ابْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ ابْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطَأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ) )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا کی: اے اللہ: ہمارے رب! اورتیرے لئے ہی ساری تعریف ہے، تو ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اورمکہ کے کمزوروں کو نجات دے دے، اے اللہ! مضر قبیلے پر اپنا عذاب سخت کردے اوراسے ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی قحط سالی کی طرح قحط کر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6200، ومسلم: 675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7259»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6200
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَلَّمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي أَنَا لَسْتُ قُلْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ) ) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16687»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی قوم کے لیے دعا کرنا اور کسی کے لیے بددعا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں ہوتا تھا، غفار قبیلہ قدیم اسلام والا تھا اور اسلم قبیلے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی تھی۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 679
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا
ابن سیرین کہتے ہیں کہ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں رکوع کے بعد کی ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دفعہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی، رکوع کے بعد کچھ عرصہ تک کی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1001، ومسلم: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12141»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1001
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الْقُنُوتِ أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: قَبْلَ الرُّكُوعِ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: كَذَبُوا، إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ
عاصم احول کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قنوت کے متعلق سوال کیا کہ آیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟ انہوں نے جواب دیا: رکوع سے پہلے ہے۔ میں نے کہا: لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کے بعد قنوت کی تھی،یہ سن کرانہوں نے کہا: لوگوں سے غلطی ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ایک مہینہ قنوت کی ہے جس میں آپ ان لوگوں پربد دعا کرتے تھے جنہوں نے آپ کے ان صحابہ کو قتل کر دیا تھا، جن کو قرّاء کہا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1002، 3170، ومسلم: 677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12735»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 1002
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1765
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر میں ہمیشہ قنوت کرتے رہے حتی کہ آپ دنیا سے جدا ہوگئے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو جعفر عيسي بن ماھان الرازي سيء الحفظ، وقد خالف رواية الثقات لھذا الحديث عن انس، فالرواية الصحيحة عنه: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم قنت شھرا يدعو علي أحياء من أحياء العرب: عصية وذكوان ورعل ولحيان۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12064)۔ أخرجه عبد الرزاق: 4964، وأخرج بنحوه ابن ابي شيبة: 2/ 312، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 1/ 244، والدارقطني: 2/ 39، والبيھقي: 2/ 201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12686»
وضاحت: فوائد: … قنوت نازلہ کا تعلق خاص اسباب سے ہے، جیسا کہ اس باب کے شروع میں اس کی مشروعیت کی وضاحت کی گئی تھی۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں