🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. بَابُ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ وَسَبَبِهِ وَهَلْ هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ
صبح میں قنوت اور اس کا سبب اورکیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا اس کے بعد؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ قَالَ: ( (لَعَنَ اللَّهُ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ، عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَسْلَمُ سَلَّمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، ثُمَّ وَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَرَأَ عَلَى النَّاسِ: ( (يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي أَنَا لَسْتُ قُلْتُهُ، وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَهُ) ) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) قَالَ حُفَافٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ
سیدنا خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جبکہ ہم آپ کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخری رکوع سے سر اٹھایا تو یہ بد دعا کی: اللہ لعنت کرے، لحیان پر، رعل پر، ذکوان پر اور عصیہ پر، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اورغفار کو اللہ معاف فرمائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں گر پڑے،جب آپ (نماز سے)فارع ہوئے تو فرمایا: اے لوگو! میں نے یہ کلمات نہیں کہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے کہے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: خفاف نے کہا: اسی وجہ سے کافروں پر لعنت کرنا بنا دیا گیا۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16687»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی قوم کے لیے دعا کرنا اور کسی کے لیے بددعا کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کی روشنی میں ہوتا تھا، غفار قبیلہ قدیم اسلام والا تھا اور اسلم قبیلے نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 679


Al-Fath al-Rabbani Hadith 1762 in Urdu