🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِعَدَمِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ إِلَّا عِنْدَ النَّوَازِلِ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1772
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) (1) قَالَ: رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ إِلَى أَنْ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِينِ يُوسُفَ، اللَّهُ أَكْبَرُ) ) ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں رکوع کیا، پھر سر اٹھا یا اور یہ دعا کی:اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دلا … … اے اللہ! اس کو ان پر یوسف علیہ السلام والا قحط بنا دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10528»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10528
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1773
عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ! إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَعَلِيٍّ هَٰهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
ابو مالک اشجعی کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: ا ے ا باجان: بلاشبہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدناعمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کی اقتدا میں اور یہاں کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے پانچ سال نمازیں پڑھی ہیں، تو کیایہ لوگ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹےیہ ایک نئی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 402، وابن ماجه: 1241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15974»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه الترمذي: 402
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما (کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27751»
وضاحت: فوائد: … کئی احادیث ِ مبارکہ میں قنوت نازلہ کا ثبوت ملتا ہے، بعض کا ذکر اس باب سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔ تو پھر اس روایت میں صحابی کا اس عمل کو بدعت یا نیا عمل کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جوابات ہی زیادہ مناسب ہیں: (۱)صحابی کا مقصد دوام اور ہمیشگی کو ردّ کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حادثات و واقعات کے مطابق کبھی کبھار قنوتِ نازلہ فرماتے تھے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں