الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ حُجَّةِ الْقَائِلِينَ بِعَدَمِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ إِلَّا عِنْدَ النَّوَازِلِ
ان لوگوں کی دلیل کا بیان جو صبح کی نماز میں مصائب کے علاوہ قنوت نہ کرنے کے قائل ہیں
حدیث نمبر: 1774
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ مُحْدَثٌ
۔ (دوسری سند)انھوں نے کہا: میرے باپ نے سولہ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تھی، پھر انھوں نے سیدناابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما (کے پیچھے بھی نماز پڑھی)میں نے ان سے کہا: کیا وہ قنوت کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، میرے پیارے بیٹےیہ نئی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صفة الصلاة/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27751»
وضاحت: فوائد: … کئی احادیث ِ مبارکہ میں قنوت نازلہ کا ثبوت ملتا ہے، بعض کا ذکر اس باب سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔ تو پھر اس روایت میں صحابی کا اس عمل کو بدعت یا نیا عمل کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جوابات ہی زیادہ مناسب ہیں: (۱)صحابی کا مقصد دوام اور ہمیشگی کو ردّ کرنا ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حادثات و واقعات کے مطابق کبھی کبھار قنوتِ نازلہ فرماتے تھے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔
(۲) ممکن ہے کہ اس صحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں وہ نمازوں ادا نہ کی ہوں، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا فرمائی ہو، اس لیےیہ اپنے علم کے مطابق اس کو بدعت سمجھتا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ وگرنہ اس صحابی کے قول کی وجہ سے ہمین یہ جسارت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ قنوتِ نازلہ کا علی الاطلاق ردّ کر دیں، کیونکہ ہمیں بہت سی ان احادیث کا علم ہو چکا ہے، جن کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قنوت کا اہتمام کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1774 in Urdu