🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. 2 - بَابُ هَيْئَةِ الْجُلُوسِ لِلتَّشَهُّدِ وَالْإِشَارَةِ بِالسَّبَّابَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت،انگشت ِ شہادت سے اشارہ کرنے کا اور دوسرے امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1785
عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَنِ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا وَقُعُودِهِ عَلَى وَرِكِهِ الْيُسْرَى وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَنَصْبِهِ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ فَخِذِي الْيُسْرَى وَنَصَبْتُ السَّبَّابَةَ، قَالَ: فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي، قَالَ لِي: أَيْ بُنَيَّ لِمَ نَصَبْتَ إِصْبَعَكَ هَٰكَذَا؟ قَالَ: وَمَا تُنْكِرُ رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَإِنَّكَ أَصَبْتَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى يَصْنَعُ ذَلِكَ، فَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ إِنَّمَا يَصْنَعُ هَٰذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا وَكَذَبُوا، إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابن اسحاق کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نماز کے درمیان اور اس کے آخر میں بائیں ران کو بچھانے، دائیں قدم کو کھڑا رکھنے، دائیں ہاتھ کو ران پر رکھنے اور انگلی کے ساتھ ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرنے کے بارے میں مجھے عمران بن ابو انس نے بیان کیا، … … مدینہ منورہ کے ایک باشندے نے کہا: میں نے مسجد بنو غفار کی مسجد میں نماز پڑھی، جب میں بیٹھا تو بائیں ران کو بچھا دیا اور انگشت ِ شہادت کو گاڑھ دیا، مجھے صحابی رسول خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ نے اس طرح کرتے ہوئے دیکھا، جب میں نماز سے فارغ ہواتو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو اس طرح اپنی انگلی کو کیوں گاڑھا ہوا ہے؟ میں نے کہا: آپ کون سے چیز کا انکار کرنا چاہتے ہیں، بس میں نے لوگوں کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا؟ انھوں نے کہا: بیشک تو نے سنت کے مطابق کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تھے تو اسی طرح کرتے تھے اور ربّ تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تھے، جبکہ مشرکین کہتے تھے: محمد اپنی انگلی سے اس طرح کر کے جادو کرتا ہے، اور انہوں نے جھوٹ بولا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1785]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الرجل الراوي عن خفاف بن ايمائ۔ أخرجه البيھقي: 2/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16688»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1786
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ، فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهَا جَفَاءً بِالرَّجُلِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
طاووس کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے قدموں پر بیٹھنے کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔ ہم نے کہا: ہم تو اس کو آدمی کی اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے تھے۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1786]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 536، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2853 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2853»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1787
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ طَاوُسٍ أَيْضًا قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَجْثُو عَلَى صُدُورِ قَدَمَيْهِ فَقُلْتُ: هَٰذَا يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهُ مِنَ الْجَفَاءِ، قَالَ هُوَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ (دوسری سند)طاووس کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ پاؤں کو کھڑا کر کے ان پر بیٹھ جاتے۔ میں نے کہا: لوگ تو اس کیفیت کو اکھڑ مزاجی اور اجڈ پن خیال کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: یہ تو تیری نبی کی سنت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1787]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2855»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں دراصل جلسۂ استراحت کی ایک کیفیت بیان کی گئی ہے، اس کو اِقْعَائ کہتے ہیں،یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت جائز اور مسنون ہے اور دوسری ناجائز اور غیر مسنون۔ جائز صورت: جلسۂ استراحت میں دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا۔ ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مِنَ السَّنُّۃِ فِی الصَّلاَۃِ أَنْ تَضَعَ اِلْیَتَیْکَ عَلٰی عَقِبَیْکَ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۳/۱۰۶/۱، الصحیحۃ:۳۸۳)
یعنی: یہ سنت ہے کہ تو نماز میں دو سجدوں کے درمیان (جلسہ میں)اپنے سرینوں (چوتڑوں) کو اپنی ایڑیوں پر رکھے۔ نیز معاویہ بن خدیج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے طاوس کو اقعاء کرتے ہوئے دیکھا اور کہا: آپ نماز میں اقعاء کر
رہے تھے، کیوں؟ انھوں نے کہا: تو نے صرف مجھے اقعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، بلکہ یہ تو نماز کا ایک طریقہ ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کو یہ اقعاء کرتے ہوئے دیکھا۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث اور ان آثار سے معلوم ہوا کہ اقعائ کی مذکورہ قسم مشروع ہے، یہ سنت ہے اور ایسا کرنا عبادت ہے۔ یہ کسی عذر کی بنا پر نہیں تھا، جیسا کہ بعض متعصّب لوگوں کا خیال ہے۔ ان کی بات کیسے درست ہو گی؟ جبکہ تین صحابہ نے سنت سمجھ کر اس پر عمل کیا اور جلیل القدر فقیہ تابعی طاوس نے ان کی پیروی کی اور امام احمد نے (مسائل المروزی: ۱۹) میں کہا: اہل مکہ بھی اقعائ کرتے تھے۔ پس جو آدمی اس سنت پر عمل کر کے اس کا احیاء کرنا چاہتا ہے، اس کے لیےیہی سلف کافی ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ سجدوں کے درمیان بیٹھنے کے دو طریقے ہیں:
(۱) دائیاں پاؤں کھڑا رکھنا اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھنا اور
(۲) دونوں پاؤں کو کھڑا رکھنا اور ان کی ایڑھیوں پر بیٹھ جانا، جسے اقعاء کہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کو اپناتے ہوئے مختلف اوقات میں دونوں طریقوں پر عمل کیا کریں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی سنت رہ نہ جائے۔(صحیحہ: ۳۸۳

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1788
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي صِفَةِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: وَكَانَ يَقُولُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَفْتَرِشَ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَى، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ، وَكَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کرتے تھے کہ آدمی (سجدے میں) اپنے بازؤں کو درندے کی طرح بچھائیں، آپ بائیں پاؤں کو بچھا لیتے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی بیٹھک سے منع فرماتے تھے اور آپ نمازکو سلام کے ساتھ ختم کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1788]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 498، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26135»
وضاحت: فوائد: … شیطان کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ناجائز صورت ہے، گزشتہ حدیث میں اس کا بیان ہو چکا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1789
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ قَعَدَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الْأَيْمَنِ عَلَى فِخِذِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ قَبَضَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَحَلَّقَ حَلْقَةً (وَفِي رِوَايَةٍ حَلَّقَ بِالْوُسْطَى وَالْإِبْهَامِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ) ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا
یہ مکمل حدیث صحیح ہے، مذکورہ الفاظ کو شاذ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ ثقہ کی ایسی زیادتی نہیں ہے، جس سے ثقات کی روایت کی نفی ہو رہی ہو،ثقات کی روایت کے الفاظ وَأَشَارَ باِلسَّبَّابَۃِ اور زائدہ بن قدامہ کی روایت کے الفاظ ثُمَّ رَفَعَ إِصْبَعَہُ فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَایَدْعُوْبِہَا میں سرے سے کوئی تضاد ہی نہیں ہے، امام البانی نے بھی اس کو صحیح کہا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: فرأيتهيحركھايدعو بھا فھو شاذ انفرد به زائدة بن قدامة من بين اصحاب عاصم بن كليب ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19075»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1790
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ قَوْلِ الرَّجُلِ بِإِصْبَعِهِ يَعْنِي هَٰكَذَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ ذَٰكَ الْإِخْلَاصُ
سیدنا وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر آپ بیٹھے،بایاں پاؤں بچھا دیا، بائیں ہتھیلی ران اور بائیں گھٹنے پر رکھی اور دائیں کہنی کو بائیں ران سے اٹھا کر رکھا، پھر أپنی انگلیاں بند کرکے حلقہ بنایا۔ اور ایک روایت میں ہے: انگوٹھے اور درمیانی (انگلی) کا حلقہ بنایا اورسبابہ سے اشارہ کیا۔ پھر اپنی انگلی اٹھائی تو میں نے آپ کو دیکھا آپ اسے ہلا کر اس کے ساتھ دعا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1790]
تخریج الحدیث: «حسن، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الرجل الذي من بني تميم، واسمه اربدة التميمي البصري۔ أخرجه البيھقي: 2/ 133، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3152»
وضاحت: فوائد: … سَبَّابہ کے معانی برا بھلا کہنے والی اور سَبَّاحہ کے معانی پاکی بیان کرنے والی کے ہیں۔یہ دونوں انگشت ِ شہادت کے اوصاف ہیں، کیونکہ کسی کو گالی دیتے وقت یا اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے وقت عام طور پر اسی انگلی سے اشارہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے قارئین کی آسانی کے لیے ان الفاظ کا ترجمہ انگشت ِ شہادت کیا، کیونکہ ہمارے ہاں اس انگلی کو یہی نام دیا جاتا ہے، بہرحال بعض مقامات پر لفظ سَبَّابہ کا ذکر بھی آئے گا۔ دورانِ تشہد اشارے والی احادیث میں دعا کرنے سے مراد پورا تشہد، دعائیں اور درود ہوتا ہے۔
بنو تمیم کا ایک آدمی کہتا ہے: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے آدمی کا نماز میں انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کے بارے میں پوچھا توانہوں نے کہا: یہ اخلاص ہے۔
فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا اخلاص اور توحید پر دلیل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ وَأَتْبَعَهَا بَصَرَهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَهَا أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ) ) يَعْنِي الْسَّبَّابَةَ
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے، اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی نظر اسی کے پیچھے لگاتے، پھر یہ بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ انگلی شیطان پر لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1791]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، كثير بن زيد الاسلمي متكلم فيه۔ أخرجه البزار: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6000»
وضاحت: فوائد: … نمازی انگشت ِ شہادت سے اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے لیے عبادت میں اخلاص کا اظہار کرتا ہے اور یہ چیز شیطان کے لیے سب سے زیادہ باعث ِ تکلیف ہے، اس لیے اسے اس سے لوہے کی ضرب سے بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے شرّ سے محفوظ رکھے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي التَّشَهُّدِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَلَمْ يُجَاوِزْ بَصَرُهُ إِشَارَتَهُ
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اورسبابہ کے ساتھ اشارہ کرتے اور آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ گزرتی تھی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1792]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 579، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16100/2 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16199»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1793
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ أَنَّهُ قَالَ: رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي، وَقَالَ: اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ، قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى
علی بن عبد الرحمن معاوی کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں کنکریوں سے کھیلتے ہوئے دیکھ لیا، جب وہ فارغ ہوئے تو مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا: تم اس طرح کیا کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی دائیں ران پر رکھتے اور ساری انگلیاں بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی بائیں ران پر رکھتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1793]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5331 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5331»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1794
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَلَسَ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ فَدَعَا بِهَا وَيَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ بِمَسْطَحَتِهَا عَلَيْهَا
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی دائیں انگلی کو اٹھا کر اس کے ساتھ دعا کرتے اوراپنا بایاں ہاتھ گھٹنے پر پھیلا کر رکھتے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ صِفَةِ الصَّلَاةِ/حدیث: 1794]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 580 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6348»
وضاحت: فوائد: … تشہد کے دوران شہادت والی انگلی سے اشارہ کرنا: مکمل تشہد، وہ پہلا ہو یا دوسرا، کے دوران انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا جاری رکھا جائے گا، جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا قَعَدَ فِیْ التَّشَہُّدِ وَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُسْرٰی وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْیُمْنٰی وَعَقَدَ ثَلاثَۃً وَّ خَمْسِیْنَ وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَۃِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: یَدْعُوْ بِھَا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشہد کے لئے بیٹھتے تو بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر اور دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پررکھتے اور (دائیں ہاتھ کی) ترپن کی گرہ بنا کر شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس کے ساتھ دعا مانگتے۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أِذَا قَعَدَ یَدْعُوْ وَضَعَ یَدَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَیَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُسْرٰی وَاَشَارَ بِأِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ …۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز میں) تشہد پڑھنے کے لئے بیٹھ جاتے تو دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے۔
تنبیہ: مذکورہ بالا دو احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تشہد کے دوران ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنا اور رانوں پر رکھنا دونوں طرح درست ہے۔
تنبیہ: تشہد میں صرف اَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کے وقت انگلی اٹھانا اور پھر رکھ دینا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
اشارہ کرنے کے طریقے:
(۱)دوانگلیوں کو بند کر کے درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنا لینا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (ابوداود: ۹۵۷، نسائی: ۱۲۶۵، ابن ماجہ: ۹۱۲)
(۲)تین انگلیوں کو بند کرکے انگوٹھے کو درمیانی انگلی پر رکھنا اور انگشتِ شہادت سے اشارہ کرنا۔ (صحیح مسلم: ۵۷۹)
(۳) ترپن کی گرہ لگانا(یعنی: تین انگلیوں کو ہتھیلی کے قریب ترین حصے کے ساتھ بند کرکے انگوٹھے کو شہادت والی
انگلی کی آخری گرہ کے نیچے رکھنا)۔ (صحیح مسلم: ۵۸۰)
تنبیہ: اشارے کے دوران انگلی کو حرکت دینا درست ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۱۷۸۹)سے ثابت ہو رہا ہے

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں