🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب رفع الصوت بالذكر عقب الانصراف من الصلاة
نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1882
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام ابو معبد کو بتلایا کہ عہد ِ نبوی میں جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے تو ذکر کے ساتھ آواز کو بلند کرتے تھے۔ مزید انھوں نے کہا: بلکہ جب میں (اس ذکر کی) آواز سنتا تھا تو پہچان جاتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1882]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 841، ومسلم: 583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3478»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 841
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1883
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لَهُ حَدَّثْتَنِي؟ قَالَ لَا، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا ختم ہونا تکبیر کے ساتھ ہی پہچانتا تھا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے (ابو معبد) سے کہا: تو نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے تجھے یہ بیان نہیں کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1883]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 841، ومسلم: 583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1933»
وضاحت: فوائد: … یہ دونوں احادیث، ایک حدیث ہی ہیں،یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث کے عموم کو دوسری حدیث کے خصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، یعنی مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ صرف اللہ اکبر کے ساتھ آواز بلند ہونی چاہیے۔ بعض جن احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کچھ دوسری دعاؤں کو جہری آواز کے ساتھ پڑھنا بھی ثابت ہے، ان سے مراد لوگوں کو تعلیم دینا ہے۔
عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 841
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں