🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بابُ جَامِعِ الْأَذْكَارِ وَتَعَوذَاتٍ وَأَدْعِيَةٍ وَقِرَاءَةِ بَعْضِ سُوَرٍ عَقْبَ الصَّلَوَاتِ
نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1869
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ) )
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1869]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 73، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20381، 20409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20680»

الحكم على الحديث: اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 73
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1870
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ وَكُنْتُ أَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ! أَنَّى عَقَلْتَ هَٰؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: يَا أَبَتَاهْ سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
۔ (دوسری سند)مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پاس سے گزرا اور وہ یہ دعا کررہے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ تو میں نے بھی ان سے یہ دعا یاد کر لی اور ہر نماز کے بعداس کو پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دفعہ (میرے والد) میرے پاس سے گزرے اور میں یہ دعا کر رہا تھا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: بچو!یہ کلمات تونے کہاں سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: اباجان! میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے ہوئے سناتھا، اس طرح میں نے یہ کلمات آپ سے سیکھ لیے۔ انھوں کہا: پیارے بیٹے! ان کو لازم پکڑ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1870]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي في كتاب الدعوات: 294، وأخرج بنحوه الترمذي: 3503، والحاكم: 1/ 533، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20720»

الحكم على الحديث: اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي في كتاب الدعوات : 294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1871
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: ( (اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ) )
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَاأُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں،میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، میں تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔) [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1871]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1427، والنسائي: 3/ 248، وابن ماجه: 1179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 751، 957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 957»

الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1427
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1872
عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ) )
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وَرَّاد سے روایت ہے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ،اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعَطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی) دولت تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔) [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1872]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6330، ومسلم: 593، وانظر الحديث بالطريق الثالث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18367»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6330
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1873
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ إِذَا صَلَّى فَفَرَغَ قَالَ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ)
۔ (دوسری سند)سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ میری طرف ایسی چیز لکھو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو کہتے: لاَإِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … …۔ پہلی حدیث کی طرح ذکر کی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري ومسلم، وانظر الحديث بالطريق الثالث، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18341»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري ومسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1874
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ) ) (الْحَدِيث) وَفِي آخِرِهِ قَالَ وَرَّادٌ: ثُمَّ وَفَدْتُّ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ وَيُعَلِّمُهُمُوهُ
۔ (تیسری سند)عبدۃ بن ابی لبابہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام وَرَّادنے انہیں بتایا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، وراد نے خود یہ خط لکھا تھا، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ جب آپ سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … …۔ مکمل حدیث بیان کی، اس روایت کے آخرمیں ہے: وراد نے کہا: اس کے بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے سنا کہ وہ منبر پر لوگوں کو اس دعا کا حکم دے رہے تھے اور ان کو اس کی تعلیم دے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1874]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6615، ومسلم: 593، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18319»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6615
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1875
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ) )
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ اَلسَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ تو ہی سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، تو بابرکت ہے، اے شان اور عزت والے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1875]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26022»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 592
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1876
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَلَى هَٰذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوْ الصَّلَوَاتِ يَقُولُ: ( (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ) )
ابو زبیر کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرتے تو کہتے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ، أَھْلَ النِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، برائی سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ، ہم نہیں عبادت کرتے مگر اسی کی، اے نعمت و فضل اور اچھی ثنا والے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر اللہ، ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں۔) [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1876]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16221»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 594
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ (الْحَدِيث) قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
۔ (دوسری سند)ہشام بن عروہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو ہر نماز کے بعدکہتے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … …۔ اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کے بعدیہ الفاظ ہیں: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ۔ وہ کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ کی توحید کا اعلان کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1877]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 594، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16204»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 594
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَلَمْ يَحِلِّ لِذَنْبٍ يُدْرِكُهُ إِلَّا الشِّرْكُ، فَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ) )
سیدنا عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مغرب اور صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد (اپنی جائے نماز سے) پھرنے اور ٹانگ موڑنے سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُیُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔)تو ایسے شخص کے لیے ہر دفعہ یہ کہنے کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی اوراس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ اور مردود شیطان سے بچاؤ ہوں گے اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کے لیے حلال نہیں ہوگا کہ وہ ایسے آدمی کو ہلاک کر سکے اور ایسا آدمی عمل کے لحاظ سے سب لوگوں میں افضل ترین ہوگا، سوائے اس آدمی کے، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، یعنی اس سے زیادہ یہ ذکر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1878]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لارساله، ولضعف شھر بن حوشب، وقد اضطرب في سنده و متنه۔ أخرجه ابن حجر في نتائج الافكار: 2/305، وعبد الرزاق: 3192، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18153»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں