🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ مَا جَاءَ فِي عَقْصِ الشَّعْرِ وَالْعَبَثِ بِالْحَصَى وَالنَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1896
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّمَا مَثَلُ هَٰذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ) )
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2767»
وضاحت: فوائد: … مرفوع حدیث کا معنییہ ہے کہ جس طرح ہاتھ سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح بال بھی سجدہ کرتے ہیں، جس طرح ہاتھوں کا بندھا ہوا ہونا مناسب نہیں، اسی طرح بالوں کا بندھا ہوا ہونا بھی نامناسب ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1897
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1897]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23856، 27184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27726»
وضاحت: فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: قدیم عربوں کییہ طبعی عادت تھی کہ جن کے لمبے بال ہوتے تھے، وہ ان کو اکٹھا کر کے باندھ لیتے تھے، اب بھی بعض علاقوں میں کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں اس طرح کرنے سے منع کر دیا اور بالوں کو کھولنے کا حکم دیا تاکہ سجدہ کی ادائیگی بدرجۂ اتم ہو سکے۔ (صحیحہ: ۲۳۸۶)

الحكم على الحديث: صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1042
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1898
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَاوِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَلَبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ: لَا تَقْلِبِ الْحَصَى فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَٰكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، كَانَ يُحَرِّكُهُ هَٰكَذَا، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي مَسْحَةً
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1898]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4575»
وضاحت: فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرورت ہوتی تو ایک دفعہ ہاتھ مار کر ان کو درست یا صاف کر لیتے تھے۔ آنے والے تیسری روایت میں اسی مسئلہ کا بیان ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه بنحوه مسلم: 580
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1899
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى (وَفِي رِوَايَةٍ) فَلَا يُحَرِّكِ الْحَصَى، أَوْ لَا يَمَسَّ الْحَصَى) )
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1899]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 945، وابن ماجه: 1027، والترمذي: 379، والنسائي: 3/ 6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21656»

الحكم على الحديث: اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1900
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: ( (وَاحِدَةً، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے، ملاحظه هو سلسله احاديث صحيحه: 3062 أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 411، وابن خزيمة: 897، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14253»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو۔ عاجزیو انکساری اور خشوع و خضوع کا تعلق نمازی کے دل و دماغ اور ظاہری جسم دونوں سے ہے، نماز میں جسم پر بھی خوف و خشیت کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں اور فضول حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بعض نمازی طبعی طور پر سر میں خارش کرنے، داڑھی کے بالوں کو چھیڑنے، ناک میں انگلی ڈالنے اورکپڑوں اور بالوں کو سنوارنے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ حدیث ِ مبارکہ اس امر میں واضح دلیل ہے کہ نمازی کو فضول حرکات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر واقعی کوئی ضرورت محسوس ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1901
عَنْ مُعَيْقِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحُ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى فَقَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً) )
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24009»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 546
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1902
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ: ( (إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً) )
۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24011»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1903
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1903]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 399، وأخرج النسائي بنحوه: 2/ 204، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14561»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ دوپہر کی سخت گرمی اور تپتی زمین کی وجہ سے ان کی نمازیں متاثر نہیں ہوتی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لیے اس قسم کا کام کر سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 399
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1904
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ: ابْنَ أَخِي! لَا تَنْفُخْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ: ( (تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ) )
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سعيد بن عثمان لم نقف له علي ترجمة۔ أخرجه الترمذي: 381 وفي سنده ابو حمزه ميمون الاعور ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26572، 26744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27107»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ نماز میں کوئی زائد حرکت اور فعل نہیں کرنا چاہیے۔ ان احادیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ عینک والے حضرات کو نماز شروع کرنے سے پہلے عینک اتار کر رکھ لینی چاہیے، نہ کہ سجدے کیطرف جھکتے ہوئے، اسی طرح موبائل وغیرہ نماز شروع کرنے سے پہلے بند کرنا چاہیے، تاکہ دوران نماز زائد حرکات سے بچا جا سکے۔ علی ہذا القیاس۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ … … وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ( (رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ) ) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الْحَدِيثُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1905]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194، والنسائي: 3/ 149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6483»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ اس طرح پھونک مارنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔ نیز اس دعا سے پتہ چلا کہ سجدے میں دعا اور تسبیح کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں