الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء فى عقص الشعر والعبث بالحصى والنفخ فى الصلاة
نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1896
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّمَا مَثَلُ هَٰذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ) )
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1896]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2767»
وضاحت: فوائد: … مرفوع حدیث کا معنییہ ہے کہ جس طرح ہاتھ سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح بال بھی سجدہ کرتے ہیں، جس طرح ہاتھوں کا بندھا ہوا ہونا مناسب نہیں، اسی طرح بالوں کا بندھا ہوا ہونا بھی نامناسب ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 492
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1896 in Urdu