🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ وَهُوَ حَاقِنٌ وَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَبِمُدَافِعَةِ النُّعَاسِ
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں¤اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1921
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَجَّ فَكَانَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ، فَأَقَامَ يَوْمًا الصَّلَاةَ وَقَالَ: لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْخَلَاءِ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلْيَذْهَبْ إِلَى الْخَلَاءِ) )
عروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حج کیا، وہ (اس سفر کے دوران) اذان دیتے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے، ایک دن وہ نماز تو کھڑی کرنے لگے، لیکن اتنے میں کہا: تم میں سے کوئی بندہ نماز پڑھا دے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں کسی کا قضائے حاجت کے لیے جانے کا ارادہ ہو اور نماز بھی کھڑی کر دی جائے تو وہ پہلے قضائے حاجت کر لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1921]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/110، وابن ماجه: 616، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16055»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/110
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1922
عَنْ أَبِي أَمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَأْتِ أَحَدُكُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ حَاقِنٌ وَلَا يَدْخُلْ بَيْتًا إِلَّا بِإِذْنٍ، وَلَا يَؤُمَّنَّ إِمَامٌ قَوْمًا فَيَخُصَّ نَفْسَهُ بِدَعْوَةٍ دُونَهُمْ) )
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی آدمی اس حالت میں نماز کی طرف نہ آئے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب روکنے والا ہو اور کسی گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوا جائے اور کوئی امام کسی قوم کی اس طرح امامت نہ کرائے کہ ان کو چھوڑ کر دعا میں اپنے نفس کو خاص کر دے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1922]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: ((ولا يؤمّن۔)) وھذا اسناد ضعيف لضعف السفر بن نسير الازدي الحمصي، ثم قد اختلف فيه علييزيد بن شريح الحضرمي الحمصي أخرجه الطبراني في الكبير: 7507، والبخاري تعليقا في التاريخ الكبير: 8/ 341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22152 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22504»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مصداق وہ صورت ہے کہ جب امام اجتماعی دعا کر رہا ہو اور مقتدی اس پر آمین کہہ رہے ہوں، جیسے قنوتِ نازلہ وغیرہ۔

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1923
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے کی موجودگی میں نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس وقت جب دو خبیث چیزیں مدافعت کر رہی ہوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1923]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 560، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24667»
وضاحت: فوائد: … دو خبیث چیزیں مدافعت کر رہے ہوں۔ سے مراد پاخانہ یا پیشاب کا زور ڈالنا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه مسلم: 560
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَأُوا بِالْعَشَاءِ، وَقَالَ وَكِيعٌ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا لگا دیا جائے اور نماز کے لیے اقامت بھی کہہ دی جائے تو کھانے سے ابتدا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1924]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 671، ومسلم: 558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24120، 24246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26139»
وضاحت: فوائد: … وکیع (راوی حدیث) نے حدیث اس طرح بیان کی ہے جب نماز کا وقت ہو جائے اور شام کا کھانا بھی حاضر ہو جائے …۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 671
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک نیند کا اثر ختم ہو جائے، کیونکہ جب وہ اسی اونگھنے والی حالت میں نماز پڑھے گا تو ممکن ہے کہ وہ (بزعم خود) بخشش طلب کر رہا ہو، جبکہ وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 212، ومسلم: 786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24791»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت مین یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ نمازی کا مقصود اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ (اے اللہ مجھے بخش دے) کہنا ہو، جبکہ نیند کے غلبے کی وجہ سے اس کی زبان سے اَللّٰھُمَّ اعْفِرْ (اے اللہ مجھ پر مٹی ڈال، مجھے خاک آلود کر دے) نکل رہا ہے، پہلا جملہ دعا ہے اور دوسرا بد دعا۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 212
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1926
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقُولُ) )
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو وہ نماز چھوڑکر سوجائے حتیٰ کہ وہ اپنے کہے ہوئے کلمات کو سمجھنے لگ جائے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1926]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12446، 12520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12548»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں ہمیں نماز میںجن امور سے منع کیا گیا ہے، ان سے یہ اندازہ تو ہو جانا چاہیے کہ ہمیں نماز کا حکم دینے سے اللہ تعالیٰ کا مقصود کیا ہے، کیایہی مقصد نظر نہیں آتا ہے کہ گویا کہ بندہ ایک عالَم سے دوسرے عالَم میں گھس جائے اور اسے اپنے وجود تک کی کوئی فکر اور ضرورت باقی نہ رہے۔ جبکہ ہماری صورتحال یہ ہے کہ بھوک بھی نہیں لگی ہوتی اور قضائے حاجت کی ضرورت وغیرہ بھی محسوس نہیں ہو رہی ہوتی، لیکن اس کے باوجود ہماری روح کو اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے کا احساس تک نہیں ہوتا اور آپ مانیںیا نہ مانیں جب ہم نماز سے فارغ ہوتے ہیں تو تازگی، خوشی اور ایمان کی بڑھتی ہوئی حلاوت کی بجائے ہمیں ذہنی تھکاوٹ کا احساس ہو رہا ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہمارا ذہن اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی بجائے مختلف امور میں غور وفکر کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 213
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں