الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ كَرَاهَةِ الصَّلَاةِ وَهُوَ حَاقِنٌ وَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَبِمُدَافِعَةِ النُّعَاسِ
پیشابیا پاخانہ کو روک کر، کھانے کی موجودگی میں¤اور اونگھ کے غلبہ کی صورت میں نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1925
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّهُ إِذَا صَلَّى وَهُوَ يَنْعَسُ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے، یہاں تک نیند کا اثر ختم ہو جائے، کیونکہ جب وہ اسی اونگھنے والی حالت میں نماز پڑھے گا تو ممکن ہے کہ وہ (بزعم خود) بخشش طلب کر رہا ہو، جبکہ وہ اپنے آپ کو گالیاں دے رہا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة/حدیث: 1925]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 212، ومسلم: 786، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24287 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24791»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت مین یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ نمازی کا مقصود اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ (اے اللہ مجھے بخش دے) کہنا ہو، جبکہ نیند کے غلبے کی وجہ سے اس کی زبان سے اَللّٰھُمَّ اعْفِرْ (اے اللہ مجھ پر مٹی ڈال، مجھے خاک آلود کر دے) نکل رہا ہے، پہلا جملہ دعا ہے اور دوسرا بد دعا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 212
Al-Fath al-Rabbani Hadith 1925 in Urdu