🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ سَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ
سلام پھیر دینے والا وہ آدمی کیا کرے، جس کی ابھی تک ایک رکعت باقی ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1995
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ مِنَ الْعَصْرِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ وَكَانَ فِي يَدِهِ طُولٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ صَنِيعَهُ، فَجَاءَ فَقَالَ: ( (أَصَدَقَ هَٰذَا؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الَّتِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی تین رکعت کے بعد سلام پھیر دیا اور پھر اٹھ کر گھر چلے گئے، ایک آدمی اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف گیا، اسے خرباق کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی طرف آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات واضح کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر تشریف لائے اور فرمایا: کیایہ سچ کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا:جی ہاں! تو آپ نے جو رکعت چھوڑی تھی، وہ ادا کی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 574، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20066»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 574
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1996
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا وَانْصَرَفَ وَقَدْ بَقِيَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَرَجَعَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ رَكْعَةً، فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ هُوَ هَٰذَا، فَقَالُوا: طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن ایک نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر چلے گئے، جب کہ اس نماز سے ایک رکعت باقی تھی، ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملا اور کہا: آپ نماز سے ایک رکعت بھول گئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انھوں نے نماز کو کھڑا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی۔ جب میں نے یہ بات لوگوں کو بتائی تو وہ مجھ سے پوچھنے لگے: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، ہاں اگر میں اس کو دیکھ لوں تو پہنچان لوں گا، اتنے میں وہ میرے پاس سے گزر پڑا، میں نے کہا کہ یہ وہ آدمی ہے، لوگوں نے کہا: یہ تو سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1996]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1023، والنسائي: 2/ 18، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27796»
وضاحت: فوائد: … اس باب کا مفہوم پچھلے باب والا ہی ہے کہ جب کوئی آدمی کم رکعات پر سلام پھیر دے تو وہ ان رکعات کی ادائیگی کر کیے سجدۂ سہو کرے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1023
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں