الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَنْ سَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ وَفِيهِ ذِكْرُ قِصَّةِ ذِي الْيَدَيْنِ
دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے کا بیان اور اس میں سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، قَالَ: ذَكَرَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَسِيَهَا مُحَمَّدٌ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَأَتَى خَشَبَةً مُعْرُوضَةً فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي رِوَايَةٍ: ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ) فَقَالَ بِيَدِهِ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ قَالُوا: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُسَمَّى ذَا الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: ( (لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ (وَفِي رِوَايَةٍ مَا قُصِرَتْ وَمَا نَسِيتُ) ) ) ، قَالَ: فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: ( (كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي تَرَكَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ يُسْأَلُ: ثُمَّ سَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچھلے پہر کی (ظہر اور عصر کی) دو نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے تو اس نماز کا ذکر کیا تھا، لیکن ابن سیرین اس کو بھول گئے تھے، بہرحال آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس آ گئے۔ایک روایت میں ہے: پھر آپ قبلہ کی سمت پڑے ہوئے ایک تنے کے پاس آئے آپ اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لیا کرتے تھے۔ پس آپ نے اس کے ساتھ کمر کی ٹیک لگا لی اور اپنا ہاتھ بھی اس پر رکھ لیا، گویا کہ آپ غصے میں ہیں،اُدھر مسجد کے دروازوں سے جلد باز لوگ یوں کہتے ہوئے نکلتے گئے: نماز کم ہو گئی ہے۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکراورسیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے، لیکن وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کرنے سے گھبرا گئے، لوگوں میں ایک آدمی تھا، اس کے ہاتھ ذرا لمبے تھے، اسی وجہ سے اسے ذوالیدین کہتے تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم ہوگئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ وہ کہنے لگا: یقینا آپ نے دو رکعتیں پڑھائی ہیں۔ آپ نے پوچھا: (بات ایسے ہی ہے) جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور نماز کی جتنی رکعتیں رہ گئی تھیں، وہ ادا کیں، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور عام سجدوں کی طرح یا ان سے بھی لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، پھر عام سجدوں کی طرح یا لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور اللہ اکبر کہا، ابن عون کہتے ہیں: جب محمد بن سیرین سے پوچھا گیا کہ کیا (سجدوں کے بعد) سلام پھیرا تھا، تو انھوں نے کہا: مجھے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بتلایا گیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 482، 1229، 6051، ومسلم: 573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7201، 7376 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7200»
الحكم على الحديث: أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 482
حدیث نمبر: 1990
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الشَّمَالَيْنِ بْنُ عَبْدِ عَمْرٍو، وَكَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ: أَخُفِّفَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: صَدَقَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ! فَأَتَمَّ بِهِمُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ نَقَصَ
۔ (تیسری سند) سیدنا ابو ہریرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالشمالین بن عبد عمرو رضی اللہ عنہ، بنو زہرہ کے حلیف تھے، نے آپ سے کہا: آیا نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اس نے سچ کہا ہے، پھر آپ نے ان کو ساتھ لے کر وہ دو رکعتیں مکمل کیں، جو رہ گئی تھیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 94، وابوداود: 1013، والنسائي: 3/ 25، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7653»
وضاحت: فوائد: … ائمۂ حدیث کا اتفاق ہے کہ اس حدیث میں امام زہری کو وہم ہوا، جس کی وجہ سے انھوں نے اس قصے کو ذوالشمالین بن عبد عمرو کی طرف منسوب کر دیا، حالانکہ یہ صحابی غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے اور اس حدیث میں بیان کیا گیا واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا تھا، مزید تفصیل آگے آ رہی ہے، سنن نسائی کی ایک روایت میں بھی ذوالشمالین ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مالك في المؤطا : 1/ 94
حدیث نمبر: 1991
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، قَالُوا: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ
۔ (چوتھی سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا، لوگوں نے کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور بعد ازاں دو سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 715، 1227، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8998»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 715
حدیث نمبر: 1992
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ، سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَمْ تُقْصَرْ وَلَمْ أَنْسَهَا) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَحَقُّ مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ آخِرَتَيْنِ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنِي ضَمْدَمُ بْنُ جَوْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَيْنِ
۔ (پانچویں سند)سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، بنو سلیم کا ایک آدمی اٹھ کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز کم ہوئی ہے اور نہ میں بھولا ہوں۔ ا س نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے صرف دو رکعتیں پڑھیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ ذوالیدین کہہ رہا ہے، کیا وہ سچ ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر آخری دو رکعتیں پڑھائیں، ((ضمضم بن جوس کی ابوہریرہ سے روایت کے مطابق)) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 573، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9444 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9458»
وضاحت: فوائد: … اس سند کے الفاظ سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس وقوعہ میں موجود تھے، کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھ رہا تھا۔ اور یاد رہنا چاہیے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سات سن ہجری میں غزوۂ خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد کا ہے، اس لیے اس کو منسوخ نہیں سمجھا جا سکتا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 573
حدیث نمبر: 1993
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ سَادِسٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ: أَقُصِرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ) ) ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: ( (أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟) ) فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
۔ (چھٹی سند)سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا، سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: کیا نماز کم ہوگئی ہے اے اللہ کے رسول! یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ بھی نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یقینا کچھ تو ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں پر متوجہ ہوکر فرمانے لگے: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بقیہ نماز مکمل فرمائی، پھر دو سجدے کیے، جب کہ آپ بیٹھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 573 وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9925 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9927»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 573 وانظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 1994
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى الْمَغْرِبَ فَسَلَّمَ فِي رَكْعَتَيْنِ وَنَهَضَ لِيَسْتَلِمَ الْحَجَرَ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالَ: فَصَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا أَمَاطَ عَنْ سُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
عطا کہتے ہیں:سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی اوردو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کرحجر اسود کو بوسہ دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، لوگوں نے سبحان اللہ کہا، انہوں نے کہا: تمہیں کیا ہواہے؟ (جب صورتحال بتائی گئی) تو انھوں نے بقیہ نماز پڑھی اور دو سجدے کیے، جب سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا: وہ اپنے نبی کی سنت سے نہیں ہٹے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، مطر بن طھمان الوراق قد تابعه عن عطاء غير واحد۔ أخرجه الطيالسي: 2658، والبيھقي: 2/ 360، وعبد الرزاق: 3492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3285»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نمازی کسی رکن کی ادائیگی کے بغیر سلام پھیر دے، تو سابقہ نماز کو بنیاد بنا کر اپنی نماز مکمل کرے اور سلام پھیر کر سجدے کرے، لیکن سہو کے سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، جیسا کہ اگلے باب میں مذکورہ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے، اس حدیث سے ایک اور اہم مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ نہ بھول کر نماز میں کلام کرنے والے کی نماز باطل ہوتی ہے اور نہ اس شخص کی کہ جو یہ سمجھ کر کلام کر رہا ہو کہ وہ نماز میں نہیں ہے۔ حدیث میں مذکور صحابی ذوالیدین کا نام خرباق تھا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی کچھ عرصہ زندہ رہا تھا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد بھییہ حدیث بیان کی تھی، ایک صحابی ذوالشمالین تھے، یہ خزاعی تھے اور ان کا نام عمیر بن عبد عمرو تھا، یہ غزوۂ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ صحابی اس حدیث کے راوی نہیں ہیں، جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ احناف نے اس حدیث کو منسوخ قرار دیا ہے، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ حدیث محکم ہے، کیونکہ مدنی دور کے شروع میں نماز میں کلام کی حرمت کا نزول ہو گیا تھا، جبکہ اس حدیث میں مذکورہ واقعہ تو سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جیسا کہ ابھی ابھی تفصیل گزر چکی ہے، نیز اس موضوع پر نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان میں بحث ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح