الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ جَامِعِ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَرَوَاتِبِ الْفَرَائِضِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2053
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا، وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا، قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، قُلْتُ كَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2053]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26339»
وضاحت: فوائد: … سجدے تو بیٹھ کر ہی کیے جاتے ہیں، اس حدیث میں سجدوں سے پہلے والی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھڑے ہوتے یا بیٹھے ہوتے۔ لیکنیہ بھی سنت ہے کہ بیٹھ کر قراء ت شروع کی جائے، پھر اسی رکعت میں کھڑے ہو کر کچھ تلاوت کر کے رکوع و سجود کیے جائیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیسیا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ (بخاری: ۱۱۴۸، مسلم: ۷۳۱)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول
حدیث نمبر: 2054
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا، فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2054]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس، وقابوس فيه لين، وقال ابن حبان: كان رديء الحفظ، ينفرد عن أبيه بما لا أصل له۔ أخرجه الطيالسي: 1575، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 1156، وابن ابي شيبة: 2/ 200، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24665»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس
حدیث نمبر: 2055
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْمَوْتُ، اشْتَدَّ جَزَعُهُ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ يَعْنِي أُخْتَهُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ) ) فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ
حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے گا۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 428، والنسائي: 3/264، 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27300»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی صورت میں ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو سنتیں نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۱۸۲، مسند احمد: ۲۴۳۴۰)
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 428