الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي الْبَيْتِ
نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2036
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا) )
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز ادا کرلے، تو پھر وہ اپنے گھر واپس جائے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا کرے، بندے کو چاہیے کہ گھر میں بھی نفل نماز پڑھتا رہا کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2036]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولعنعنة ابي الزبير۔ أخرجه ابن ماجه: 1376، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11112، 11567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11128»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں میں برکت ہوتی ہے اور نماز، ذکر الٰہی کا سب سے عظیم ذریعہ ہے، کئی احادیث میں گھروںمیں نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے مراد نفلی نماز ہے، تاکہ گھروں میں خیر و برکت نازل ہو،رحمت والے فرشتوں کا نزول ہو اور عمل مخفیہو اور ریاکاری کا خطرہ کم ہو جائے۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا) )
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز پڑھ لے تو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و بھلائی کرے گا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2037]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14391، 11567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14444»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 778
حدیث نمبر: 2038
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ! فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ) )
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی ہے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث: «أخرجه مطوّلا البخاري: 6113، ومسلم: 781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21624، 21632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21962»
الحكم على الحديث: أخرجه مطوّلا البخاري: 6113
حدیث نمبر: 2039
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) )
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 255، والبزار في مسنده: 3777، والطبراني في الكبير: 5278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17030، 21677 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22017»
وضاحت: فوائد: … گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ اس کے دو مفہوم ہیں: (۱)مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جو اپنی قبروں میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ (۲)جو آدمی اپنے گھر میں نفلی نماز نہیں پڑھے گا، اس نے اپنے آپ کو میت اور اپنے گھر کو قبر بنا دیا ہے۔
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2040
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھروں میں نماز ادا کیاکرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2040]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه مالك في المؤطا: 1/ 168، وابو يعلي: 4867، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24366 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24870»
الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2041
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً) )
سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھر میں اور مسجد میں نماز کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں نماز اور گھر میں نماز، تودیکھتا تو ہے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے،لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے، الّا یہ کہ وہ فرض نماز ہو۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2041]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 211، 212، وابن ماجه: 651، 1378، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19216»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 211
حدیث نمبر: 2042
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ) )
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْأَذْ كَارِ الْوَارِدَةِ عَقْبَ الصَّلَاةِ/حدیث: 2042]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513، والبزار: 210، وابويعلي: 165، وابن خزيمة: 2172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 86 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 86»
وضاحت: فوائد: … عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده قوي۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 513